12/October/2026

ایپکس کمیٹی کا اجلاس : خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ

👁️ 79 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایپکس کمیٹی کا اجلاس : خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ

ایپکس کمیٹی کا اجلاس : خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ

پشاور(ڈیلی اردو) خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سیکیورٹی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو جدید آلات، ضروری سہولیات اور مطلوبہ وسائل فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں پر سمجھوتا ممکن ہے، تاہم سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف سیکریٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ سیکیورٹی و انتظامی حکام نے شرکت کی۔ شرکا نے صوبے میں دہشت گردی کے واقعات، امن و امان کے چیلنجز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی انتظامیہ ایک پیج پر ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی ضروریات پوری کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق صوبہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، لیکن امن قائم کیے بغیر ان وسائل اور ترقی کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پولیس افسران اور اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خطرات کا سامنا کرتے ہوئے عوام کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود، مناسب معاوضے اور خاندانوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ماضی میں بہت قربانیاں دے چکا ہے اور اب عوام کے جان و مال کا تحفظ کرتے ہوئے صوبے میں پائیدار امن قائم کرنا ہوگا۔

گورنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں بھی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کو جدید آلات اور ضروری سہولیات فراہم کرکے مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، تاکہ دہشت گردی کے خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جاسکے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دے رہی ہے اور اس جنگ میں کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو تعاون اور مدد فراہم کی جائے تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ محسن نقوی نے مشکل حالات میں سیکیورٹی اہلکاروں کو ثابت قدم رہنے اور مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں گزشتہ ڈھائی سال کے دوران صوبے میں پیش آنے والے سیکیورٹی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب لوگ جنازوں میں شرکت سے گریز کرتے تھے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی حمایت اور عملی تعاون کو ضروری قرار دیا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے انتظامی امور چلانے کے لیے قائم 11 رکنی مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں بھی امن و امان کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں تعلیم، صحت، انصاف اور دیگر شعبوں میں شفافیت یقینی بنانے اور صوبے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبے میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد امن و امان اور حکومتی امور کی نگرانی کے لیے نئے انتظامات کیے گئے ہیں۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی بھیجی گئی سمری پر دستخط اور وفاقی کابینہ کی توثیق کے بعد صوبائی حکومت، وزرا، مشیران اور ایڈووکیٹ جنرل کو غیر فعال کردیا گیا تھا، جس کے بعد صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی۔

وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ مشاورتی کونسل میں داخلہ امور، معیشت، قانون، تعلیم، صحت، معدنیات، صنعت و تجارت، مواصلات، مذہبی امور، توانائی اور اطلاعات سمیت مختلف شعبوں کے لیے ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کونسل کی معاونت کے لیے افواج پاکستان کی تعیناتی کا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی چیلنجز سے متاثرہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے معاملات کی نگرانی کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے زیر انتظام الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو ان اضلاع کی صورت حال سے وفاقی حکومت کو آگاہ رکھے گا۔ ان اضلاع کی ترقی، تعمیر نو اور بحالی کے لیے خصوصی کونسل بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد انتظامی نگرانی بہتر بنانا، امن و امان بحال کرنا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C