بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے حامی صحافیوں کے خلاف مقدمات
👁️ 147 بار دیکھا گیا
بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کے حامی صحافیوں کے خلاف مقدمات
ڈھاکا (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پانچ اگست کے روز معزولی اور پھر ملک سے فرار ہونے کے بعد سے ان صحافیوں کو قانونی چارہ جوئیوں کا سامنا ہے، جنہوں نے مبینہ طور پر پرتشدد مظاہروں کے دوران شیخ حسینہ کی حکومت اور ان کی عوامی لیگ پارٹی کی حمایت کی تھی۔
ڈھاکہ کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ناہید اسلام، ایک طالب علم کارکن جو اب وزارت اطلاعات و نشریات کی قیادت کر رہے ہیں اور عبوری حکومت کے میڈیا مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں، نے کہا ہے کہ “بالواسطہ طور پر رائے عامہ کو تشکیل دے کر بڑے پیمانے پر قتل عام کی حمایت کرنے والوں” کا احتساب کیا جائے گا۔
اگست کے اواخر میں بنگلہ دیش کی وزارت صحت نے کہا تھا کہ حسینہ کی حکومت کے خلاف حکومت مخالف ہفتوں کے مظاہروں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔
عوام کی طرف سے دائر کی جانے والی شکایات
عبوری حکومت کے ایک مشیر اے ایف حسن عارف نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اگر تفتیشی ایجنسیوں کو ملزم صحافیوں کو پانچ اگست کے بعد درج مقدمات سے منسلک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو وہ الزامات سے بری ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانونی شکایات انتظامیہ کے اہلکاروں نے شروع نہیں کیں، بلکہ عوام کے ارکان کی طرف سے دائر کی گئیں۔ عارف نے بتایا، “اگر ان مقدمات کو بے بنیاد تصور کیا جائے تو، ملزمان کے پاس ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے کا اختیار ہے” تاکہ انہیں خارج کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کے پاس افراد کو مقدمات درج کرانے سے روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ ہی پولیس شکایات سے انکار کر سکتی ہے۔
مقدمات میں ملزمان کو ضمانت دینے کے حوالے سے عارف نے وضاحت کی کہ یہ عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے صحافیوں کو جیلوں میں رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایک اور حکومتی مشیر سیدہ رضوانہ حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں پر صحافیوں کی گرفتاری کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔ عبوری انتظامیہ نے وعدہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آزادی صحافت پر تشویش
صحافیوں کو اس طرح نشانہ بنائے جانے سے انسانی حقوق کی تنظیموں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز سمیت دیگر تنظیموں نے عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنائے اور ملزمان کے حقوق کو برقرار رکھا جائے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جھوٹے مقدمات درج کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ حربہ ماضی میں اپوزیشن کو ڈرانے اور حکمران جماعت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
سینیئر نیوز ایڈیٹر مسعود کمال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ مقدمات ملک کے سیاسی کلچر کی عکاس ہیں۔
کمال نے مقدمات کو روکنے میں ناکامی پر عبوری حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بہت سے الزامات ثابت نہیں ہوں گے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے مقدمات درج کرنے سے ایک پریشان کن مثال قائم کی گئی ہے۔
ویمن جرنلسٹس نیٹ ورک بنگلہ دیش کی کوآرڈینیٹر انگور نہار مونٹی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ مخصوص الزامات کے بغیر فوجداری مقدمات درج کرنا نامناسب ہے۔
مونٹی نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے اور مجرمانہ الزامات عائد کرنے کا رجحان میڈیا اہلکاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور آزادی صحافت کو متاثر کر سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے ٹی وی چینل آئی کی ایک صحافی فہمیدہ اختر نے کہا کہ اگرچہ صحافیوں کے خلاف قانونی ثبوتوں کے ساتھ مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں، لیکن عبوری حکومت کے لیے غصے پر مبنی مقدمات کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، “اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو میڈیا کا جو بطور واچ ڈاگ ایک کردار ہے، اس سے سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے۔”
ایک وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن ایڈوکیٹ زیڈ آئی خان پنا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چونکہ عبوری حکومت بنگلہ دیش میں آزادی صحافت کو یقینی بنانے کے لیے وقف ہے، اس لیے وہ صحافیوں کے خلاف دائر کیے گئے بے بنیاد مقدمات کو خارج کرنے کے لیے کارروائی کرے گی۔
سپریم کورٹ کی وکیل عین النہار صدیقہ لیپی نے کہا کہ اس وقت یہ تعین کرنا ناممکن ہے کہ ان صحافیوں پر درست الزام لگایا گیا ہے یا نہیں، کیونکہ تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 319 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4812 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3573 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3435 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C