جعفر ایکسپریس حملہ: بازیابی یا رہائی؟ حکومتی دعوے اور عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد
👁️ 103 بار دیکھا گیا
جعفر ایکسپریس حملہ: بازیابی یا رہائی؟ حکومتی دعوے اور عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد
واشنگٹن (ڈیلی اردو تحقیقاتی رپورٹ) 11 مارچ کو بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی فوج اور حکام نے دعویٰ کیا کہ 339 مسافروں کو کامیاب ریسکیو آپریشن کے ذریعے بازیاب کرایا گیا۔ تاہم، کئی عینی شاہدین اور مسافروں کے بیانات اس سرکاری موقف سے مختلف کہانی پیش کر رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بعض مسافروں نے کہا کہ وہ خود موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے یا پھر عسکریت پسندوں نے انہیں جانے دیا۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فوج نے واقعی کامیاب ریسکیو آپریشن کیا یا پھر یہ محض ایک سرکاری بیانیہ تھا؟
حملے کی تفصیلات
جعفر ایکسپریس 11 مارچ کی صبح کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہوئی۔ مسافر سلمان علی کے مطابق، دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے پانیر ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک زوردار دھماکے کے بعد ٹرین رک گئی۔ اس کے فوراً بعد فائرنگ شروع ہوگئی، اور مسلح عسکریت پسند قریبی پہاڑوں سے اترتے دکھائی دیے۔
مسافروں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ٹرین کے شیشے توڑ دیے اور فائرنگ جاری رکھی، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ مسافروں کو زبردستی باہر نکالا گیا، اور شناختی کارڈز کی جانچ کے بعد دو الگ گروپ بنائے گئے۔ ایک میں حکومتی اہلکار اور دوسرے میں عام شہری۔
سلمان علی کا بیان
“عام مسافروں کو شام کے وقت جانے کی اجازت دی گئی، جب کہ فوج اور سرکاری اداروں سے وابستہ افراد کو روک لیا گیا۔ ہم نے کئی گھنٹے پیدل چلنے کے بعد ایک ریلوے اسٹیشن کے قریب فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی چیک پوسٹ دیکھی تو جان میں جان آئی۔”
یہ بیان سرکاری دعوے کو مشکوک بنا دیتا ہے کہ تمام مسافروں کو “ریسکیو آپریشن” کے تحت بازیاب کرایا گیا تھا۔
حکومتی دعوے اور تضادات:
1. فوج کا دعویٰ
ترجمان پاکستانی فوج کے مطابق، 339 مسافروں کو کامیاب آپریشن کے ذریعے بازیاب کرایا گیا۔
عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا، اور کوئی یرغمالی باقی نہیں رہا۔
2. عینی شاہدین کا مؤقف: بعض مسافر خود ہی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔
مسلح افراد نے عام شہریوں کو شناخت کے بعد جانے دیا۔
کوئی واضح ثبوت نہیں ملا کہ فوج نے عسکریت پسندوں سے جھڑپ کے بعد مسافروں کو چھڑایا۔
نتائج اور اہم سوالات
یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد بازیابی کے حوالے سے حکومتی بیانیہ اور عینی شاہدین کے بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔
اگر فوج نے واقعی کامیاب آپریشن کیا تو آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق کیوں ممکن نہیں؟
اگر تمام مسافروں کو بازیاب کرایا گیا تو پھر عینی شاہدین کے بیانات مختلف کیوں ہیں؟
کیا سرکاری ادارے مسافروں کی رہائی کا کریڈٹ لینے کے لیے اصل حقائق چھپا رہے ہیں؟
نتیجہ
جعفر ایکسپریس حملہ اور اس کے بعد کے واقعات ریاستی دعوؤں پر کئی سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ آزاد تحقیقات کے بغیر یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا فوج نے واقعی کامیاب آپریشن کیا یا مسافروں کی رہائی عسکریت پسندوں کے فیصلے کا نتیجہ تھی۔ اس واقعے پر مزید شفافیت اور غیر جانبدار تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
ہلاکتوں اور بازیاب مسافروں کی تعداد پر تضاد، 45 مسافر کہاں گئے؟
پاکستانی فوج اور حکومتِ بلوچستان کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے 33 بلوچ شدت پسندوں کی ہلاکت اور آپریشن کی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم بازیاب ہونے والے اور مبینہ طور پر لاپتہ مسافروں کی تعداد کے حوالے سے ابہام موجود ہے۔
جمعے کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ آپریشن کے دوران 354 مسافروں کو ریسکیو کیا گیا، جبکہ حملے میں 18 فوجی اور ایف سی اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر یہ تعداد 380 بنتی ہے۔
یہ اعداد و شمار پاکستانی فوج کے ترجمان کے دو روز قبل دیے گئے بیان سے مختلف ہیں، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ جعفر ایکسپریس میں 440 مسافر سوار تھے۔ دوسری طرف وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 425 مسافروں کو ٹکٹ جاری کیے گئے تھے۔ ان دونوں دعووں میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی 45 مسافر کہاں گئے؟
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ کچھ مسافروں کو اس وقت گولیاں لگیں جب وہ ٹرین سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
یہ تضادات جعفر ایکسپریس حملے سے متعلق سرکاری بیانیے کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ کیا یہ گمشدہ مسافر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے، یا وہ آپریشن کے دوران مارے گئے؟ یا پھر وہ کسی اور طریقے سے اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے لیکن ان کی تفصیلات حکومت کے پاس نہیں؟
ان سوالات کے جواب تاحال غیر واضح ہیں، اور اس معاملے پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ جعفر ایکسپریس کے تمام مسافروں کے انجام سے متعلق حقائق سامنے آ سکیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 166 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 205 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 135 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 127 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 145 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 233 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8819 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4539 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3261 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2442 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2082 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1886 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C