01/August/2026

ٹرمپ کا ایران پر ’انتہائی سخت‘ حملوں کا حکم، تہران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا انتباہ

👁️ 9 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کا ایران پر ’انتہائی سخت‘ حملوں کا حکم، تہران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا انتباہ

ٹرمپ کا ایران پر ’انتہائی سخت‘ حملوں کا حکم، تہران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا انتباہ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف "انتہائی سخت" حملوں کی ہدایت دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ تہران کو "بہت بری طرح نشانہ بنائے گا"۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہم اہداف پر نئے بڑے حملوں کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے جمعے کو کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کو "بڑی شدت سے نشانہ بنائے گا" اور بالآخر تہران کو یہ کہنا پڑے گا کہ وہ مزید دباؤ برداشت نہیں کر سکتا۔

 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کو پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تنازع کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے اور دونوں جانب سے ایک بار پھر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

 

اے ایف پی کے مطابق امریکی فضائی حملے اب تک ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکے، جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ نے امریکی صدر کو ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طویل تنازع کے باوجود صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ تلاش نہیں کر سکے، جبکہ ان کے پاس دستیاب اختیارات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

 

ایران کا آبنائے ہرمز سے متعلق انتباہ

 

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر ذوالقدر نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے اور بحری ناکہ بندی جاری رہی تو آبنائے ہرمز پر پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی۔

 

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں دیگر اہم آبی گزرگاہیں اور تجارتی راستے بھی بند ہو سکتے ہیں۔

ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اس اقدام کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور امریکی ووٹرز تک پہنچ سکتے ہیں۔

 

ایران کا جوابی منصوبہ تیار ہونے کا دعویٰ

 

ایرانی سرکاری میڈیا اور سیکیورٹی اداروں سے قریبی سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ نے ایک نامعلوم سینئر سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ممکنہ حملوں کے جواب کے لیے ایک "وسیع منصوبہ" تیار کر رکھا ہے۔

 

رپورٹس کے مطابق ایرانی اہلکار نے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متعلق خبروں کو "احمقانہ" قرار دیا۔

 

اہلکار کے مطابق اگر ایسے حملے کیے گئے تو ایران کے ممکنہ ردعمل میں اسرائیل کے اہم بنیادی ڈھانچے اور خطے میں موجود امریکی توانائی کے اثاثوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

 

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی، بحری تجارت اور خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C