05/May/2026

جنوبی وزیرستان میں خودکش کار حملہ، ایک شہری ہلاک، 18 زخمی، حملہ آور بھی مارا گیا

👁️ 203 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی وزیرستان میں خودکش کار حملہ، ایک شہری ہلاک، 18 زخمی، حملہ آور بھی مارا گیا

جنوبی وزیرستان میں خودکش کار حملہ، ایک شہری ہلاک، 18 زخمی، حملہ آور بھی مارا گیا

وانا (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے میں کم از کم ایک نوجوان شہری ہلاک جبکہ 18 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ خودکش حملہ آور بھی موقع پر ہی مارا گیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس افسر جنوبی وزیرستان لوئر طاہر شاہ وزیر کے مطابق یہ واقعہ اعظم ورسک بازار کے قریب پیش آیا، جہاں ایک مشکوک گاڑی سکیورٹی چیک پوسٹ کی جانب بڑھ رہی تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بارودی مواد سے بھری گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی۔

 

ذرائع کے مطابق حملے کا ہدف سکیورٹی فورسز تھیں، تاہم ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی دھماکہ ہو جانے کے باعث زیادہ جانی نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔

 

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جان محمد شنواری کے مطابق ہسپتال میں 14 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے تین سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں اور تمام کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والا نوجوان محمد اقبال تھا، جو اس وقت کرکٹ کھیل رہا تھا۔ زخمیوں میں آٹھ سالہ ایمل کانسی بھی شامل ہے، جس کے والد کے مطابق بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا، جس کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

 

اعظم ورسک علاقہ وانا سے تقریباً 16 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جہاں دھماکہ بازار سے چند میٹر کے فاصلے پر پیش آیا جبکہ قریب ہی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ بھی قائم ہے۔

 

حکام کے مطابق واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

 

جنوبی اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوئی ہے، جہاں بم دھماکوں، ڈرون حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 

چند روز قبل شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ کے قریب قبائلی رہنما ملک سیف اللہ خان کو بھی مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد مقامی افراد نے ’چیغہ پارٹی‘ تشکیل دے کر مبینہ شدت پسند ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔

 

ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C