21/September/2026

خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو تین افراد سمیت لاپتہ، اغوا کیے جانے کی تصدیق

👁️ 64 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو تین افراد سمیت لاپتہ، اغوا کیے جانے کی تصدیق

خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو تین افراد سمیت لاپتہ، اغوا کیے جانے کی تصدیق

خاران(ڈیلی اردو) بلوچستان کے شورش زدہ ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر سومرو کو تین دیگر افراد سمیت مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرلیا۔ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ سفر کرنے والے افراد میں ان کا ذاتی محافظ بھی شامل تھا۔ واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کارروائی شروع کردی ہے، تاہم تاحال کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے رابطہ منقطع ہوا

سرکاری حکام کے مطابق منیر سومرو نجی گاڑی میں کوئٹہ سے خاران کی جانب سفر کر رہے تھے۔ نوشکی سے گزرنے کے بعد جب گاڑی خاران کی حدود میں داخل ہوئی تو ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھیوں سے رابطہ اچانک منقطع ہوگیا۔

حکام نے ان سے موبائل فون کے ذریعے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم تمام فون مسلسل بند ملے، جس کے بعد ان کی تلاش شروع کی گئی۔

تین دیگر افراد بھی ساتھ تھے

بلوچستان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے ساتھ تین افراد موجود تھے، جن میں ان کا ذاتی محافظ بھی شامل تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خاران کی حدود میں داخل ہونے کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے انہیں مبینہ طور پر اپنی تحویل میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی اور انتظامی اداروں نے مغوی ڈپٹی کمشنر اور دیگر افراد کی تلاش اور بحفاظت بازیابی کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں شروع کردی ہیں۔

کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی

اب تک کسی مسلح تنظیم یا گروہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر اور ان کے ساتھیوں کے مبینہ اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تحقیقات اور مغویوں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔

خاران میں سیکیورٹی صورتحال

خاران بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ ضلع بلوچستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں ماضی میں شورش اور سیکیورٹی سے متعلق واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق علاقے میں امن و امان بہتر بنانے اور شہریوں سمیت سرکاری اہلکاروں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں۔

بلوچستان میں سرکاری اہلکار بھی نشانہ بنتے رہے

بلوچستان میں گزشتہ چند برس کے دوران سرکاری افسران اور دیگر اہم شخصیات کو حملوں اور اغوا کے واقعات کا سامنا رہا ہے۔ رواں سال تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ایک لیکچرر کے اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

2025 میں سوراب کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی حملے میں ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیچ کے تحصیل تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر اور زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا کے واقعات بھی سامنے آئے۔ اسی عرصے میں نوشکی پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو اغوا کے بعد قتل کیے جانے کی اطلاع ملی تھی۔

اس سے قبل 2024 میں پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ بھی نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C