03/November/2026

خیبرپختونخوا میں پولیو ٹیمیں نشانے پر، مہم کی سکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار ہلاک، ٹانک سے 4 پولیو ورکرز اغوا

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبرپختونخوا میں پولیو ٹیمیں نشانے پر، مہم کی سکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار ہلاک، ٹانک سے 4 پولیو ورکرز اغوا

خیبرپختونخوا میں پولیو ٹیمیں نشانے پر، مہم کی سکیورٹی پر مامور 2 پولیس اہلکار ہلاک، ٹانک سے 4 پولیو ورکرز اغوا

ٹانک /مہمند (ڈیلی اردو) خیبرپختونخوا کے اضلاع مہمند اور ٹانک میں پولیو مہم سے وابستہ اہلکاروں پر حملوں اور اغوا کے واقعات پیش آئے ہیں، جہاں مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت کے لیے تعینات دو پولیس اہلکار فائرنگ سے ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا، جبکہ ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد چار پولیو ورکرز کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے گئے۔

مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے دگ تمَن زئی میں منگل کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم کی سکیورٹی ڈیوٹی پر جانے والے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل ظہور خان اور اربائی خان ہلاک ہوگئے، جبکہ سپاہی صابر خان زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد زخمی اہلکار اور ہلاک ہونے والوں کی لاشیں غلنئی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردی گئیں۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ ہاشم کور پولیس چیک پوسٹ کے قریب کیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا۔ حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کی ذمہ داری سے متعلق تاحال کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ٹانک کے علاقے شیخ عطار یونین کونسل کے گاؤں جیوس میں پیر کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیو مہم پر مامور چار اہلکاروں کو فائرنگ کے بعد اغوا کرلیا۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد چاروں ورکرز کو نامعلوم مقام پر لے گئے، جن کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اغوا ہونے والوں میں یونین کونسل میڈیکل افسر قدیر، ایریا انچارج عثمان اور ویکسینیٹرز سمیر اور عمیر شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے ٹانک میں پولیو ورکرز کے اغوا کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ورکرز بچوں کے محفوظ مستقبل اور صحت مند پاکستان کے لیے قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ادھر جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں پولیو ٹیم کے دو دیگر اہلکاروں کے اغوا کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم دونوں کو بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ اس واقعے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ارکان کے ملوث ہونے کا الزام سامنے آیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ واقعات ملک بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران پیش آئے ہیں، جو 2 سے 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے تحت 97 ہائی رسک اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں اب بھی جنگلی پولیو وائرس کی منتقلی برقرار ہے۔ خیبرپختونخوا سمیت مختلف علاقوں میں پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات ویکسینیشن مہم کے لیے سکیورٹی چیلنجز میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C