24/October/2026

ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں، سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

👁️ 41 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں، سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں، سعودی عرب کا بیلسٹک میزائل اور ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

ریاض (ڈیلی اردو) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہفتے کی علی الصبح دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد شہری دفاع نے فضائی خطرے سے متعلق ہنگامی انتباہ جاری کیا۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب آنے والا ایک بیلسٹک میزائل اور ملک کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون بھی تباہ کر دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافی کے مطابق ریاض میں دھماکوں کی آوازیں اس وقت سنائی دیں جب شہریوں کو موبائل فون پر فضائی حملے سے متعلق انتباہ موصول ہوا تھا۔ شہری دفاع کی جانب سے جاری پیغام میں لوگوں کو پرسکون رہنے، گھروں یا محفوظ مقامات پر رہنے اور کھڑکیوں و دروازوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔ چند منٹ بعد یہ انتباہ واپس لے لیا گیا۔ سعودی حکام نے وادی الدواسر اور جنوبی علاقے نجران میں بھی اسی نوعیت کے انتباہات جاری کیے۔

سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے 23 اکتوبر کو بتایا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مختلف علاقوں میں 11 ڈرونز اور ایک بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کیا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ڈرونز کو ریاض، مدینہ، مشرقی صوبے اور جنوبی علاقے میں روکا گیا، جبکہ بیلسٹک میزائل نجران کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ان واقعات کی تفصیلات میں میزائلوں اور ڈرونز کے آغاز کے مقامات یا ممکنہ نقصانات کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی سابقہ رپورٹس کے مطابق اکتوبر میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوئی ہے۔ 10 اکتوبر کے حملے میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 13 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ اس کے بعد بھی حملوں اور فضائی دفاعی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 11 اکتوبر کو ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے میں ایک شخص کی ہلاکت اور 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔

رائٹرز نے 22 اکتوبر کو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی تیل کمپنی آرامکو نے دھماکوں اور حملوں کے خدشات کے دوران ظہران میں اپنے مرکزی دفتر کے عملے کو وہاں سے نکلنے اور گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی۔ اسی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں تیل کی تنصیبات اور دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ہونے والے حملوں میں بھی جانی نقصان ہوا تھا۔

تاحال ریاض میں سنی گئی تازہ دھماکوں کی آوازوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان یا جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ سعودی حکام نے میزائل اور ڈرون مار گرانے کی اطلاع دی ہے، 

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C