سرینگر: بھارتی کشمیر میں سرکاری پنڈت کے قتل کے خلاف احتجاج
👁️ 76 بار دیکھا گیا
سرینگر: بھارتی کشمیر میں سرکاری پنڈت کے قتل کے خلاف احتجاج
سری نگر (ڈیلی اردو/ ڈوئچے ویلے) بھارتی کشمیر میں احتجاجی مظاہرے اب شاذ ونادر بات ہیں، تاہم ایک سرکاری ملازم کی ہلاکت کے بعد کشمیری پنڈت مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پولیس کا دعوی ہے کہ گزشتہ رات عسکریت پسندوں نے ایک اور کشمیری پنڈت کو ہلاک کر دیا۔
بھارت کے زیر انتظام خطہ جموں و کشمیر کے کئی حصوں میں گزشتہ رات سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں کشمیری پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے ایک 36 سالہ سرکاری ملازم کو رات کے وقت قتل کر دیا کیا گیا تھا۔ مظاہرین حکومت سے وادی میں کام کرنے والے پنڈت ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
Budgam, J&K | Kashmiri Pandit govt employees & their families protest against killing of Chadoora Tehsil Office employee Rahul Bhat
If the Administration can lathicharge & tear gas the public, then could they not have caught the terrorist yesterday?: Aparna Pandit, a protester pic.twitter.com/oXAB5OKo5M
— ANI (@ANI) May 13, 2022
قتل کے بعد پنڈت کمیونٹی کے ارکان اپنے ٹرانزٹ کیمپوں سے باہر نکل آئے اور سڑکوں کو جام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مرکز کی مودی حکومت اور حکمران جماعت بی جے پی کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔
بھارتی کشمیر گزشتہ تقریبا تین برسوں سے مودی کی مرکزی حکومت کے زیر کنٹرول ہے اور ایسی سخت سکیورٹی کے حصار میں کہ تمام طرح کی سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں پر پابندیاں عائد ہیں۔
حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب پنڈت کمیونٹی کے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اس طرح سے کھل کر لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کے باوجود اس پر کنٹرول کی کوشش نہیں ہو رہی ہے۔
تازہ واقعہ کیا ہے؟
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ضلع بڈگام میں عسکریت پسندوں نے ایک 36 سالہ سرکاری ملازم راہول بھٹ کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق وادی کشمیر میں ہندو کمیونٹی کے لوگوں کو مبینہ طور پر ہدف بنا کر قتل کرنے کا جو سلسلہ ہے، یہ واردات بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔
پولیس کے مطابق عسکریت پسندوں نے راہول بھٹ پر قریب سے گولی چلائی اور پھر وہ فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ کشمیر کے ایک قدرے غیر نا معلوم عسکریت پسند گروپ ’کشمیر ٹائیگرز‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اس ہلاکت کی خبر کے بعد ہی خطے کے مختلف مقامات پر موجود ہندوؤں نے رات کے وقت ہی احتجاج شروع کر دیا، جو جمعے کو بھی جاری رہا۔ مظاہرین جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا، وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہے تھے۔
کشمیری پنڈتوں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے
اس دوران ہلاک ہونے والے راہول بھٹ کی اہلیہ میناکشی بھٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر پہلے سے غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے، اسی لیے انہوں نے وہاں سے تبادلے کی کوششیں کیں، تاہم حکام میں سے کسی بھی نے ان کی اس فریاد کو نہیں سنا۔
ایک بھارتی میڈیا ادارے سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کشمیری پنڈتوں کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں۔ وہ اپنی سیاست کے لیے کشمیری پنڈتوں کو توپ کے چارے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ میں انہیں چیلنج کرتی ہوں کہ وہ کشمیر آئیں اور بغیر سکیورٹی کے گھوم پھر کر دکھائیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’کشمیری پنڈتوں پر ظلم ہو رہا ہے اور قوم خاموش ہے۔ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کشمیری پنڈتوں کے معاملے سے پوری طرح سے لاتعلق ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی پھر نظر بند
وادی کشمیر کے ہند نواز رہنماؤں نے اس ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔
ادھر کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اپنی ایک ٹویٹ میں اطلاع دی ہے کہ اس واقعے کے بعد انہیں گھر میں پھر سے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’میں بڈگام کا دورہ کرنا چاہتی تھی تاکہ کشمیری پنڈتوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکوں، جو اپنی سکیورٹی سے متعلق حکومت کی ناکامی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’تاہم مجھے میرے گھر میں پھر سے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ کشمیری مسلمان اور پنڈت تو ایک دوسرے کے مصائب و درد سے ہمدردی رکھتے ہیں، تاہم یہ ان کے (بی جے پی) کے فرقہ وارانہ شیطانی بیانیے میں فٹ نہیں آتا ہے۔‘‘
کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ
بھارتی حکومت نے سن 2010 میں خصوصی روزگار پیکیج کے ایک پروگرام کے تحت کشمیری پنڈتوں کو کشمیر میں سرکاری ملازمتیں دینی شروع کی تھیں۔ اس طرح کے چار ہزار سے زیادہ کشمیری پنڈت کشمیر کے مختلف حصوں میں ٹرانزٹ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
لیکن دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد سے ان کے خلاف بھی تشدد شروع ہوا اور گزشتہ اکتوبر سے ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں سے بیشتر متاثرین باہر سے آنے والے مزدور اور کشمیری پنڈت ہیں، جو کام اور ملازمت کی تلاش میں کشمیر میں تھے۔
گزشتہ اکتوبر میں پانچ دن کے اندر ہی سات عام شہری مارے گئے تھے، جس میں ایک کشمیری پنڈت، ایک سکھ اور دو مہاجر ہندو مزدر شامل تھے۔ ان واقعات کے بعد ہی، ہندو برادری کے لوگ شیخ پورہ میں اپنے گھر بار چھوڑ کر کشمیر سے فرار ہونے لگے تھے۔ یہ علاقہ ہندوؤں کی آبادی کے لیے معروف ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں میں تھانہ میریان پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
16/July/2026 👁️ 23 بار دیکھا گیا
بلوچستان: ہرنائی سے انسپکٹر سمیت چار سکیورٹی اہلکاروں کی لاشیں برآمد
16/July/2026 👁️ 23 بار دیکھا گیا
بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک
16/July/2026 👁️ 19 بار دیکھا گیا
لوئر دیر میں دہشت گردوں کا پولیس ٹیم پر گھات لگا کر حملہ، 3 اہلکار ہلاک، 4 زخمی
16/July/2026 👁️ 26 بار دیکھا گیا
امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی، سینٹکام
14/July/2026 👁️ 137 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں آپریشن شعبان، 85 شدت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ
14/July/2026 👁️ 194 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8945 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4785 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3553 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2550 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2301 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1996 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C