02/October/2026

سعودی عرب پر حوثیوں کا ڈرون اور میزائل حملہ ناکام، 4 ڈرون اور 2 بیلسٹک میزائل تباہ

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب پر حوثیوں کا ڈرون اور میزائل حملہ ناکام، 4 ڈرون اور 2 بیلسٹک میزائل تباہ

سعودی عرب پر حوثیوں کا ڈرون اور میزائل حملہ ناکام، 4 ڈرون اور 2 بیلسٹک میزائل تباہ

ریاض(ڈیلی اردو) سعودی عرب کے فضائی دفاع نے یمن سے آنے والے حوثیوں کے چار ڈرونز اور دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ایک بیلسٹک میزائل خمیس مشیط جبکہ دوسرا جازان کے اوپر روکا گیا، جبکہ چاروں ڈرونز خمیس مشیط کے علاقے میں تباہ کیے گئے۔

سعودی قیادت میں یمن کے لیے قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں کی جانب سے جنوبی سعودی علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم فضائی دفاعی نظام نے تمام چھ اہداف کو روک لیا۔ ترجمان نے کہا کہ شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری دفاعی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

سعودی سول ڈیفنس کے مطابق خمیس مشیط میں ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ رہائشی علاقے میں گرا، جس سے بعض عمارتوں اور گاڑیوں کو محدود مالی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور متعلقہ اداروں نے ہنگامی کارروائیاں مکمل کیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں دوبارہ شدت دیکھی جا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی اتحاد کی جانب سے حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کی متعدد اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد نسبتاً کم رہنے والی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے صوبہ تعز میں تین گھنٹے کے دوران 20 فضائی حملوں کا دعویٰ کیا، جن میں حوثی اہلکاروں، فوجی گاڑیوں، نقل و حرکت اور عسکری سازوسامان کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔

ادھر حوثی حکام نے سعودی کارروائیوں کے حوالے سے الگ دعوے کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں حملے کیے۔ حوثی فوجی ترجمان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 47 فضائی حملے اور میزائل حملے کیے گئے، تاہم ان دعوؤں کی سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

کشیدگی میں اضافے کا ایک اور اہم واقعہ مدینہ منورہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک مرکز پر ڈرون حملے کا سعودی دعویٰ ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ حملے سے ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہوا تاہم مجموعی بجلی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی، جبکہ حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

تازہ واقعات کے بعد یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر علاقائی سلامتی کے لیے اہم معاملہ بن گئی ہے۔ یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے باعث انسانی صورتحال بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کا اثر بحیرہ احمر اور باب المندب کی سلامتی پر بھی پڑ سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C