20/September/2026

سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان ہر حد تک جائے گا، افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنا طالبان کی ذمہ داری : ڈی جی آئی ایس پی آر

👁️ 65 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان ہر حد تک جائے گا، افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنا طالبان کی ذمہ داری : ڈی جی آئی ایس پی آر

سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان ہر حد تک جائے گا، افغان سرزمین سے دہشتگردی روکنا طالبان کی ذمہ داری : ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد(ڈیلی اردو) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور حرمین شریفین کے دفاع کو بھی اس عزم کا حصہ سمجھتا ہے۔ عرب نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے متعلق صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، جبکہ بلوچستان میں دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی ریاستی پالیسی بھی واضح ہے۔ ان کے مطابق اگر طالبان حکومت دوحہ معاہدے سے متعلق اپنی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے اقدامات کا حق حاصل ہے۔

سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی دونوں سطحوں پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو کسی بھی جارحیت کا سامنا ہونے کی صورت میں پاکستان اپنے دفاعی عزم پر قائم رہے گا، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کو بھی اس عزم میں شامل سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون

ڈی جی آئی ایس پی آر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا چکا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، تاہم اس معاہدے کی مکمل عملی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ اس سے قبل واضح کر چکا ہے کہ معاہدے کے تحت حوثی حملوں کے جواب میں کسی فوری پاکستانی فوجی کارروائی پر بات نہیں ہوئی، تاہم پاکستان نے معاہدے سے وابستہ اپنے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے روکنے کا مطالبہ

افغانستان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا طالبان حکومت سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ ان کے مطابق یہی مسئلہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں بنیادی رکاوٹ ہے اور اسے حل کرنے کی ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کرتی تو پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا تنازع افغانستان کے عوام سے نہیں بلکہ طالبان حکومت کی پالیسیوں اور دہشتگرد گروہوں سے متعلق ہے۔

خودکش حملہ آوروں سے متعلق ڈی جی آئی ایس پی آر کا دعویٰ

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا کہ پاکستان میں ہونے والے خودکش حملوں میں افغان شہریوں کی نمایاں تعداد شامل رہی ہے۔ انہوں نے افغان سرزمین سے مبینہ طور پر سرگرم دہشتگرد گروہوں، ان کے تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ دعوے پاکستانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ افغان طالبان پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

بلوچستان میں دہشتگردوں سے مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی

بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ریاست نے دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق مسلح گروہ طاقت کے ذریعے اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں عوامی حمایت حاصل نہیں۔

بھارت پر دہشتگرد گروہوں کی معاونت کا الزام

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ بھارت بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کی معاونت کر رہا ہے اور ان کے حق میں بعض سوشل میڈیا سرگرمیاں پاکستان سے باہر سے چلائی جا رہی ہیں۔ بھارت اس نوعیت کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے، اس لیے ان دعوؤں کو پاکستانی عسکری حکام کے مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی جاری

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے ساتھ پاکستان سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جبکہ خطے میں جاری بحران کے دوران اسلام آباد نے مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران بیان سامنے آیا

ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو حوثی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق حالیہ حملوں میں طائف میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ مکہ مکرمہ کے محدود فضائی علاقے کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو بھی روکنے کی اطلاع دی گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C