20/September/2026

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی سکیورٹی الرٹ جاری

👁️ 73 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی سکیورٹی الرٹ جاری

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی سکیورٹی الرٹ جاری

واشگنٹن(ڈیلی اردو) امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عراق، اردن، سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان، لبنان اور یروشلم سمیت مختلف مقامات پر اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی انتباہات جاری کردیئے ہیں۔ امریکی حکام نے خطے کی صورتحال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے اچانک کشیدگی بڑھنے کے امکان سے خبردار کیا ہے۔

پروازوں اور فضائی حدود میں خلل کا خدشہ

امریکی سفارتی مشنز نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے اوقات براہ راست ایئرلائنز اور ہوائی اڈوں سے چیک کریں، جبکہ ممکنہ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری نظام میں رکاوٹوں کے پیش نظر سرکاری اطلاعات پر نظر رکھیں۔

عراق میں امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت

عراق میں امریکی سفارتخانے نے بغداد، اربیل، بصرہ اور سلیمانیہ کے ہوائی اڈوں سے متعلق پروازوں کی صورتحال مسلسل جانچنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکی شہریوں کو مظاہروں، بڑے اجتماعات اور زیادہ سکیورٹی والے علاقوں سے دور رہنے کے ساتھ ساتھ امریکا سے نمایاں طور پر منسلک مقامات پر بھی اضافی احتیاط برتنے کا کہا گیا ہے۔

اردن میں فضائی حملوں کے خدشے پر احتیاط

امریکی سفارتخانے نے اردن میں موجود شہریوں کو فوجی اڈوں کی جانب سفر سے گریز کرنے اور سائرن یا سرکاری وارننگ کی صورت میں حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ممکنہ فضائی حملے کی صورت میں کھڑکیوں، شیشے کے دروازوں اور گرنے والے ملبے سے محفوظ رہنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔

حوثی حملوں اور امریکی مفادات کو خطرات کا ذکر

امریکی انتباہات میں ایران نواز حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ واشنگٹن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صورتحال تیزی سے مزید خراب ہوسکتی ہے۔ امریکی حکام نے ماضی میں خطے اور دیگر ممالک میں امریکی سفارتی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ممکنہ خطرات سے محتاط رہنے پر زور دیا۔

سعودی عرب میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات

یہ سکیورٹی انتباہات ایسے وقت میں سامنے آئے جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مختلف مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ سعودی قیادت میں اتحاد کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب داغا گیا ایک میزائل تباہ کیا، جبکہ دیگر علاقوں کی جانب کیے گئے حملوں کو بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

حوثی باغیوں نے ینبع میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا، تاہم ان دعوؤں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے قبل از وقت واپسی

دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز کیمپ ڈیوڈ میں جاری اپنی تعطیلات مختصر کرتے ہوئے مقررہ وقت سے ایک روز پہلے وائٹ ہاؤس واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کے شیڈول میں تبدیلی کی وجہ واضح نہیں کی گئی اور یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا ان کی قبل از وقت واپسی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکی اقدامات

مجموعی طور پر امریکی سفارتی انتباہات میں شہریوں کو فوری طور پر صورتحال پر نظر رکھنے، سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور سفر کے منصوبوں میں ممکنہ تبدیلیوں کے لیے تیار رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ امریکی حکام نے خطے میں سکیورٹی صورتحال کے اچانک تبدیل ہونے کے امکان کو بھی نمایاں کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C