12/October/2026

سوڈان : سونے کی کانوں پر فضائی حملے، کم از کم 72 افراد ہلاک، مقامی ذرائع کا تعداد 200 تک پہنچنے کا دعویٰ

👁️ 70 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوڈان : سونے کی کانوں پر فضائی حملے، کم از کم 72 افراد ہلاک، مقامی ذرائع کا تعداد 200 تک پہنچنے کا دعویٰ

سوڈان : سونے کی کانوں پر فضائی حملے، کم از کم 72 افراد ہلاک، مقامی ذرائع کا تعداد 200 تک پہنچنے کا دعویٰ

خرطوم(ڈیلی اردو) سوڈان کے شمالی علاقے میں مصر کی سرحد کے قریب سونے کی غیر رسمی کان کنی کے مقامات پر فضائی حملوں میں کم از کم 72 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ مقامی اخبارات نے زندہ بچ جانے والوں کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 200 یا اس سے زیادہ بتائی ہے۔ حملوں میں سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے اور ہزاروں کان کنوں کے محفوظ مقامات کی تلاش میں قریبی پہاڑی علاقوں کی جانب فرار ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

سوڈانی حقوق تنظیم ’’ایمرجنسی لائرز‘‘ نے اتوار کو ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد جاری کرتے ہوئے حملوں کا الزام مصری فضائیہ پر عائد کیا۔ تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور مصر کی فوج یا وزارت خارجہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مصر کے متعلقہ حکام سے مؤقف لینے کی کوشش بھی کی گئی۔

مقامی سوڈانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملوں میں شمالی علاقے شَمال الوادی میں سونے کی کان کنی کے عارضی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے بعد متعدد کان کنوں کے لاپتا ہونے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے پہاڑی علاقوں میں پناہ لینے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ دور دراز مقام، مواصلاتی مشکلات اور زخمیوں کی نقل و حرکت کے باعث جانی نقصان کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے۔ مقامی حقوق تنظیموں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر میں لاشیں اور تباہ شدہ مقامات دکھائے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم رائٹرز نے ان تصاویر کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

ایمرجنسی لائرز نے کہا کہ اگر شہری کان کنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا تو یہ بین الاقوامی قانون کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم حملے میں ملوث طیاروں کی شناخت، کارروائی کے اصل مقاصد اور کان کنی کے مقامات کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے سے متعلق تفصیلات تاحال غیر واضح ہیں۔

سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد بے گھر اور معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ روزگار کے روایتی ذرائع ختم ہونے کے بعد بہت سے افراد نے آمدنی کے لیے سونے کی غیر رسمی کان کنی کا رخ کیا ہے۔ سونا جنگ کے دوران مختلف مسلح فریقوں اور تجارتی نیٹ ورکس کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔

سوڈان سے سونے کی بڑی مقدار پڑوسی ملک مصر سمیت دیگر ممالک کو اسمگل کیے جانے کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں، تاہم اس غیر قانونی تجارت کے حجم اور اس سے وابستہ نیٹ ورکس کی مکمل تفصیلات واضح نہیں۔ دور دراز کان کنی کے مقامات پر طبی سہولیات، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی امداد کی کمی کے باعث کان کن حملوں اور دیگر خطرات سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان کی جنگ میں ڈرون حملوں اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ میں نیل الازرق ریاست کے فوج کے زیر کنٹرول علاقے میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ پر جمعے کو ہونے والے الگ ڈرون حملے میں تقریباً 31 افراد کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

فی الحال شمالی سوڈان کے حملوں میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور ذمہ دار فریق کی شناخت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ ایمرجنسی لائرز کے مطابق کم از کم 72 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ مقامی اخبارات کا 200 یا اس سے زیادہ ہلاکتوں کا دعویٰ غیر مصدقہ ہے۔ مزید معلومات سامنے آنے پر جانی نقصان اور حملوں کی نوعیت کے بارے میں صورتِ حال واضح ہوسکتی ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C