طالبان نے اپنے سخت ناقد پروفیسر فیض اللہ جلال کو رہا کر دیا
👁️ 39 بار دیکھا گیا
طالبان نے اپنے سخت ناقد پروفیسر فیض اللہ جلال کو رہا کر دیا
واشنگٹن + کابل (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی) افغانستان کے معروف پروفیسر فیض اللہ جلال کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر ان کی رہائی کی اطلاع دی ہے۔ طالبان نے پروفیسر جلال کو “عوام کو بھڑکانے ” کے الزا م میں ہفتے کے روز کابل سے گرفتار کر لیا تھا۔
پروفیسر فیض اللہ جلال کو ٹوئٹر پر مبینہ اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں طالبان نے ہفتے کے روز کابل سے حراست میں لے لیا تھا۔ انہیں بعد میں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
پروفیسر فیض اللہ جلال کی بیٹی حسینہ جلال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں اپنے والد کی رہائی کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا،”میں تصدیق کرتی ہوں کہ پروفیسر جلال کو بے بنیاد الزامات پر چار دن سے زیادہ حراست میں رکھنے کے بعد اب بالآخر رہا کر دیا گیا ہے۔”
حسینہ جلال واشنگٹن میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی فیلو ہیں اور انہوں نے اپنے والد کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی تھی۔
After more than four days of detention on baseless charges, I confirm that Professor Jalal is now finally released! @BBCYaldaHakim @LinaRozbih @Samiullah_mahdi @MunazaShaheed @EjazMalikzada @AnisaShaheed1 @Wayand_ @MSharif1990 @emmaclarkuk @SuneEngel @Samiullah_mahdi
— Hasina Jalal (@HasinaJalal) January 11, 2022
پروفیسر فیض اللہ جلال کو کیوں گرفتار کیا گیا تھا؟
پروفیسر فیض اللہ جلال کی اہلیہ مسعودہ جلال نے ہفتے کے روز فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ عسکریت پسند گروپ طالبان ان کے شوہر کو گھر سے اٹھا کر لے گئے اور “کسی نامعلوم مقام پر منتقل” کردیا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ کرکے بتایا تھا کہ فیض اللہ جلال نے سوشل میڈیا پر بیانات دیے ہیں جس میں “وہ عوام کو موجودہ نظام کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں اور عوام کے وقار کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔”
ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کیا گیا ہے تاکہ دوسرے لوگ ایسے بے بنیاد بیانات نہ دیں، جس سے دوسروں کی ساکھ متاثر ہو۔
دوسری طرف پروفیسر جلال کے خاندان کا کہنا تھا کہ طالبان نے جس ٹوئٹر اکاونٹ کا حوالہ دیا ہے وہ پروفیسر فیض اللہ کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک جعلی اکاونٹ ہے۔
حسینہ جلال کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس حوالے سے 5 جنوری کو ٹوئٹر سے رابطہ کیا اور اسے بتایا کہ ان کے والد اس پلیٹ فارم پر کبھی بھی سرگرم نہیں رہے ہیں۔
طالبان کے سخت ناقد
پروفیسر فیض اللہ جلال کی گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی مختلف حلقوں سے ان کی حمایت میں آوازیں بلند ہونے لگی تھیں۔ متعدد افراد نے گرفتاری کی مذمت اور ان کی فوراً رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پروفیسر جلال افغانستان کی قیادت کے سخت ناقد رہے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں سابق صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی کی پالیسیوں کی بھی نکتہ چینی کی تھی۔ وہ اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کرتے ہیں۔
نومبر میں ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران پروفیسر جلال طالبان کے ترجمان محمد نعیم سے الجھ پڑے تھے۔ انہوں نے طالبان کی پالیسیوں کی سخت نکتہ چینی کرنے کے علاوہ محمد نعیم کو “بچھڑا” کہہ دیا تھا۔ افغانستان میں اسے انتہائی بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔
ٹی وی کے کلپس کے مطابق پروفیسر فیض اللہ جلال کو طالبان کی جبری حکمرانی اور افغانستان کی بدتر ہوتی معاشی صورت حال پر شدید تنقید کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ پروفیسر جلال کے مذکورہ بیان کے بعد تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا کہ طالبان اس کا بدلہ لیں گے۔
حسینہ جلال نے اپنے والد کی گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ طالبان ملک کے اندر مضبوط آوازوں کو دبانے کے لیے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے پوسٹس کو ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
حسینہ جلال نے بتایا کہ ان کے والد نے طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان چھوڑ کر جانے سے انکار کیا تھا اور کابل میں خاموشی سے رہ رہے ہیں جبکہ ان کے دیگر اہل خانہ یورپ جا چکے ہیں۔
فیض اللہ جلال طویل عرصے تک کابل یونیورسٹی میں قانون اور سیاسیات کے پروفیسر رہے ہیں۔ وہ حکومت کی نکتہ چینی اور جرات مندی کے ساتھ اپنے خیالات کے اظہار کی وجہ سے عوام میں کافی مقبول ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بہت سے صارفین نے پروفیسر جلال کی تصویر اپنے پروفائل پکچر کے طور پر لگالی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر حادثات کے بعد رک گئے، ایران نے امریکی حمایت سے غیر مجاز راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کردیا
30/October/2026 👁️ 25 بار دیکھا گیا
ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل تنازع نہیں بننے دیں گے، جے ڈی وینس کا بیان؛ تہران کو مذاکرات کا پیغام بھی ارسال
30/October/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
متحدہ عرب امارات میں سوڈانی فوج کو اسلحہ فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 8 افراد کو عمر قید
30/October/2026 👁️ 89 بار دیکھا گیا
سعودی عرب: مکہ مکرمہ کے علاقے میں ایران نواز حوثی باغیوں کا ڈرون تباہ، ریاض میں میزائلوں کے ملبے سے شہری زخمی
30/October/2026 👁️ 85 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز کے قریب دھماکوں کی آوازیں، جزیرہ قشم کے آسمان پر روشنیاں دیکھے جانے کی اطلاعات
30/October/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
پشاور میں فائرنگ سے سپیشل برانچ کا اہلکار ہلاک، خاتون زخمی
30/October/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26411 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15647 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11952 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9312 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7566 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5539 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C