عصمتوں کا تحفظ کیسے ممکن؟ (آصف اقبال انصاری)
👁️ 153 بار دیکھا گیا
عصمتوں کا تحفظ کیسے ممکن؟ (آصف اقبال انصاری)
کسی بھی معاشرے کے بگڑنے اور سنورنے کا دارومدار معاشرے میں بسنے والے افراد پر ہوتا ہے۔ چوں کہ معاشرہ بنتا ہی افراد سے ہے۔ لہذا افراد جیسے ہوں، معاشرہ ویسے ہی تشکیل پاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں جہاں دوسرے جرائم میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے تو وہیں ” بچے اور بچیوں سے زیادتی” کے کیسیز بھی بڑھتے چلے گئے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ جرم کیوں ہوتا ہے؟ اور مسئلہ یہ بھی نہیں کہ مجرم کیوں بنتے ہیں؟ اور یہ سوال ہو بھی کیسے کہ روز اول سے ہی نیک و بد اور نیکی و بدی کی تقسیم چلی آرہی ہے۔ اصل بات اور بنیاد یہ ہے کہ جرم کے ایک مرتبہ ہونے کے بعد دوہرایا کیوں جاتا ہے؟ کیوں پہلی ہی مرتبہ اسے جڑ سے فنا نہیں کیا جاتا کہ دوبارہ وجود ناممکن ہوجائے۔ پہلا مجرم، مجرم خود ہی بنتا ہے۔ مگر بعد از اول مجرمین سرکار خود بناتی ہے۔اگر پہلے ہی مجرم کو اس کے جرم کے مطابق سزا دی جائے تو کیا معاشرے میں کوئی دوسرا جرات کرسکتا ہے؟ ہرگز نہیں!
رواں سال اور قبل ازیں ماضی قریب کے سالوں میں زیادتی کے بڑھتے واقعات نے عوام کو بے سکونی کے عالم میں ڈال دیا ہے۔جرائم کی روک تھام کے لیے اگر شریعت اسلامیہ پر نظر ڈالیں تو ہر ہر مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہے۔اسلام کی نظر میں تمام مجرمین برابر ہیں۔ بڑے چھوٹے، کمزور طاقت ور اور مرد وعورت کی کوئی تقسیم نہیں۔ اسلام میں حدود و قصاص کی مشروعیت کی بنیادی وجہ جرائم کا سد باب ہے۔ بظاہر ان حدود و قصاص سے یوں لگتا ہے کہ یہ ظلم و جبر کی داستان ہے۔ ظاہر ہے کسی کی جان لینا اسے بتاکر، یہ مروت انسانی کے خلاف ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بطور قصاص ایک جان لینا، دوسروں کی زندگی کا احیا ہے۔ چوری پر ہاتھ کا کٹنا بظاہر ایک افسوس ناک امر ہے۔ مگر حقیقت میں دوسروں کے مال کا تحفظ ہے۔
زنا اور بدکاری پر کوڑوں اور سنگساری کی سزا اگرچہ ایک بھیانک منظر ہے مگر حقیقت میں دوسروں کی عزت نفس اور عصمت کی حفاظت ہے۔ اگر جرم کی سزا جرم دیکھ کر دی جائے نہ کہ مجرم کو دیکھ کر، تو باآسانی سماج سے جرائم کا قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس اس ملک میں قوانین کمزوروں اور طاقتوروں کی تفریق سے لاگو ہوتے ہیں۔ فیصلہ بڑوں اور چھوٹوں کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے، جن کی وجہ سے سماجی برائیاں بڑے آب وتاب سے جنم لیتی ہیں۔
اگر عصمت سے کھلواڑ کرنے والے ان وحشی درندوں کو بر موقع کیفر کردار تک پہنچا دیا جائےتو س جرم کے مجرمین کا وجود ہی مسخ ہوجائے۔ لیکن اب تک نہ جانے کتنے معصوم پھول اور کلیاں مسل دی گئیں اور مجرمین اپنے جرم کے ساتھ تاحال کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ یہی جرائم کا نقطہ آغاز ہے۔ جس کو انتہا تک پہنچانا ،جرائم سے پاک پر امن معاشرے کے وجود کے لیے ضروری ہے!!!
نوٹ: کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں۔ ادارے اور اس کی پالیسی کا ان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل سابق شامی جنرل طارتوس سے گرفتار
07/September/2026 👁️ 41 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے اہم فوجی اڈے کا کنٹرول حاصل کرلیا، حوثیوں ساتھ صومالی جنگجوؤں کی موجودگی کا انکشاف
07/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
سنٹرل کرم میں مبینہ کواڈ کاپٹر حملہ، دو شہری ہلاک
07/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
وزیرستان : سکیورٹی فورسز کی کارروائی، ایرانی شہری سمیت متعدد دہشتگرد ہلاک
07/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مستونگ میں تھانے پر دستی بم سے حملہ، پولیس اہلکار زخمی
07/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : کارگو ٹرانسپورٹ پر 6 روزہ پابندی، دفعہ 144 نافذ
07/September/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11809 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9104 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7395 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5092 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C