ماہ رنگ بلوچ: انسانی حقوق کی دہائیوں پرانی تحریک کا نیا چہرہ
👁️ 552 بار دیکھا گیا
ماہ رنگ بلوچ: انسانی حقوق کی دہائیوں پرانی تحریک کا نیا چہرہ
برلن (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) ماہ رنگ بلوچ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف دہائیوں پرانی تحریک کا نوجوان چہرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے یہ راستہ اس وقت اختیار کیا، جب انہیں نوعمری میں اپنے والد کی تشدد زدہ لاش ملی تھی۔
گزشتہ ماہ گرفتار کی گئی 32 سالہ ماہ رنگ بلوچ اب ملک کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے احتجاجی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جو بلوچ اقلیت کی نمائندگی کرتی ہیں۔
’’ہمارے والد نے ہمارے لیے یہ فیصلہ اس وقت کیا، جب انہوں نے خود کو بلوچ حقوق کے لیے وقف کر دیا اور ان کے بعد، ہم سب نے ان کے فلسفے کو اپنایا اور خود کو اس جدوجہد کے لیے وقف کر دیا۔‘‘ ماہ رنگ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک حراستی مرکز سے یہ بات اپنے اہل خانہ کو لکھی۔
اے ایف پی کی جانب سے دیکھی گئی پولیس کی چارج شیٹ کے مطابق مارچ میں گرفتاری کے وقت ان پر دہشت گردی، غداری اور قتل کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
صوبہ بلوچستان، ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر واقع ایک کم آبادی والا، دشوار گزار خطہ ہے، جو ہائیڈرو کاربن اور معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کا غریب ترین صوبہ ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔
سکیورٹی فورسز کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی قیادت میں بلوچ علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کی دہائیوں سے جاری شورش سے نبرد آزما ہیں، جو حکام اور چینی سرمایہ کاروں سمیت بیرونی افراد پر خطے کا استحصال کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بلوچ تنظیموں کی طرف سے تشدد کا جواب حکام کی جانب سے سخت کریک ڈاؤن کی صورت دیا جاتا ہے جس میں بے گناہ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق سال 2000ء سے اب تک صوبے میں 18 ہزار افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔
ماہ رنگ نے 2018 میں اپنے بھائی کی چار ماہ تک گمشدگی کے بعد بلوچ یونٹی کمیٹی (بی وائی سی) کی بنیاد رکھی تاکہ مبینہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور دیگر من مانی گرفتاریوں کے متاثرین کے رشتہ داروں کو متحرک کیا جاسکے۔
پاکستان کے ایک سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے خبر رساں ادارے نے اے ایف پی کو بتایا، ”ماہ رنگ ظالمانہ ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کا بچہ ہے۔‘‘
بلوچستان حکومت کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا، ”ایکٹیوسٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں بے بنیاد دعوے کر رہے ہیں۔‘‘
ماہ رنگ کی جدوجہد کا آغاز والد کی گم شدگی سے
ماہ رنگ نے سب سے پہلے اپنے والد کی گمشدگی کے بعد اپنی احتجاجی مہم شروع کی، ایک ایسے علاقے میں قبائلی روایات کو نظر انداز کرتے ہوئے جہاں ایک تہائی سے بھی کم لڑکیوں اور خواتین کو پڑھنے لکھنے کے لیے بھی گھر چھوڑنے کی اجازت ہوتی ہے۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے صدر نسیم بلوچ نے، جو 2011 ء سے یورپ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، کہا، ”ہم دیکھ سکتے تھے کہ وہ سڑکیں بلاک کر رہی ہیں، روتے ہوئے اپنے والد کی واپسی کے لیے التجا کرتی تھیں، یہاں تک کہ جب پولیس کی گاڑی آتی، تب بھی وہ ہر رکاوٹ کے سامنے بہادری سے کھڑی ہوئیں۔‘‘
ماہ رنگ کے والد کی گولیوں سے چھلنی لاش کی شناخت بالآخر 2011 میں جولائی کی ایک رات ہوئی، جو تشدد زدہ تھی اور اسی لباس میں تھی جس میں انہیں اغوا کیا گیا تھا۔
ماہ رنگ کی ان کی 26 سالہ بہن نادیہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ” میرا بھائی ان کی لاش دیکھ کر بے ہوش ہو گیا۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس کے بعد ماہ رنگ نے ہمارے والد کی جگہ لے لی۔ انہوں نے اپنے میڈیکل اسکالرشپس کے ذریعے ہمیں کھانا کھلانے میں ہماری ماں کی مدد کی اور بلوچی کاز کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھی۔‘‘
ان کے ہم جماعتوں کے مطابق انہوں نے نہ صرف اپنی جدوجہد کو جاری رکھا بلکہ بلوچ تحریک کو بھی یکسر تبدیل کر دیا۔
نسیم بلوچ کے بقول، ”پہلے، ہر کوئی میڈیا سے بات کرنے سے ڈرتا تھا، لیکن ماہ رنگ نے یہ راستہ اختیار کیا اور اپنے بھائی کو رہا کرانے میں کامیاب رہیں، لہٰذا اب (دیگر لاپتہ افراد کے) اہل خانہ بھی ان اغوا کی مذمت کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔‘‘
سب سے بڑھ کر، ماہ رنگ اور نادیہ بلوچ نے یہ الزام لگانے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں کہ ان کے بھائی کے اغوا کے پیچھے سکیورٹی سروسز کا ہاتھ تھا۔
ماہ رنگ نے بطور طالب علم بھی غلط اقدامات کے خلاف آواز بلند کی۔ انہوں نے اپنی کوئٹہ یونیورسٹی کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی جب عملے کو کیمپس میں خواتین کو بلیک میل کرنے کے لیے خفیہ طور پر ویڈیو بناتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
باپ کے قتل، ایک بھائی کو اغوا کیے جانے اور غربت میں گزارے گئے بچپن کے ساتھ، ماہ رنگ کی کہانی بلوچستان کے دیہی خاندانوں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔
ان کی بہن کا کہنا ہے، ”لوگ ماہ رنگ کو اس لیے پہچانتے ہیں کیوں کہ وہ بھی انہی جیسے درد سے گزر رہی ہیں۔‘‘
ماہ رنگ کے ایک 55 سالہ رشتہ دار محمد گل کے مطابق: ”بلوچ عوام انہیں امید کی ایک کرن کے طور پر دیکھتے ہیں، ایک حقیقی رہنما جو ذمہ دار لوگوں کو چیلنج کرتا ہے۔‘‘
بلوچ مسلح گروہ بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں، جس کے لیے وہ مارچ میں ٹرین کو ہائی جیک کرنے جیسے بڑے حملوں کا راستہ بھی اختیار کرتے ہیں، لیکن بی وائی سی عدم تشدد اور وفاقی ریاست کے فریم ورک کے اندر مذاکرات کے ذریعے حل کی وکالت کرتی ہے۔
ماہ رنگ نے ایک بلوچ نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچستان سے قومی دارالحکومت اسلام آباد تک 1600 کلومیٹر سے زیادہ کے ”لانگ بلوچ مارچ‘‘ کی قیادت کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کی۔
ان کی اس جدوجہد کے سبب انہیں ٹائم میگزین کے 2024 کے 100 سب سے زیادہ امید افزا لوگوں میں شامل کیا گیا۔ تاہم وہ یہ ایوارڈ وصول کرنے کے لیے نہ جا سکیں کیونکہ حکام نے انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا تھا۔
ان کے مارچ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین شرکت کرتی ہیں، جو کئی دنوں تک دھرنے دیتی ہیں۔
لندن میں مقیم پولیٹیکل سائنٹسٹ عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے، ”ان (خواتین) پر تشدد، گرفتاری یا اغوا کے امکانات کم ہوتے ہیں۔‘‘ تاہم، حالیہ ہفتوں میں بہت سی خواتین مظاہرین کو قید کیا گیا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ کا کہنا ہے کہ ماہ رنگ نے لڑائی جاری رکھنے کے لیے پہلے ہی فیملی کو تیار کر لیا ہے، ”شاید ایک دن، انہیں بھی اغوا کر لیا جائے گا یا قتل کر دیا جائے گا۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران: سراوان میں فورسز کی کاروائی ، بی ایل اے کمانڈر سمیت 4 دہشتگرد اور 3 ایرانی اہلکار ہلاک
14/September/2026 👁️ 0 بار دیکھا گیا
حوثی باغیوں کا سعودی عرب میں فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ
14/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
بنوں میں مسلح افراد کی فائرنگ، پولیس اہلکار ہلاک
14/September/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
مستونگ : سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، کمانڈر نقیب سمیت 3 دہشتگرد ہلاک
14/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
ایران سے جنگ نومبر کے بعد ختم ہونے کا امکان، ایندھن کی قیمتیں تیزی سے کم ہوں گی: ٹرمپ
14/September/2026 👁️ 125 بار دیکھا گیا
وسطی کرم میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد دہشتگرد ہلاک اور زخمی
13/September/2026 👁️ 102 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26290 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15539 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11825 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9130 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7415 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5157 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C