27/October/2026

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا، معاہدے پر اپنے سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا، معاہدے پر اپنے سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا، معاہدے پر اپنے سابقہ مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے

واشنگٹن(ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جون میں طے پانے والی عارضی جنگ بندی پر تنقید کرتے ہوئے اسے وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے اس مختصر مدت کی جنگ بندی کے زیادہ حامی نہیں تھے، تاہم اس وقت متعلقہ ماہرین کے مشورے کو ترجیح دی گئی۔

اماراتی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز عربیہ کے مطابق ٹرمپ نے منگل کو انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مختصر مدت کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن وہ اس فیصلے سے زیادہ متفق نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ وقت ضائع کرنے کے مترادف تھا، تاہم بعض اوقات ماہرین کی بات سننا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں معاہدے کی ناکامی کی وجوہات یا اس کے مستقبل سے متعلق کوئی نئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مستقل معاہدے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جون میں پاکستان کی ثالثی سے ایک عبوری مفاہمتی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھتے ہوئے 60 روز کے دوران مستقل سمجھوتے کے لیے مذاکرات کرنا تھا۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے، ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی جوہری پروگرام سمیت متنازع امور پر بات چیت کی گنجائش رکھی گئی تھی۔

تاہم مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے، دونوں ممالک کے درمیان شرائط پر اختلافات اور دوبارہ فوجی کارروائیوں کے باعث معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔ روئٹرز نے 8 جولائی کو رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ نے عبوری سمجھوتے کو عملاً ختم شدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کے بعد بھی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی کوششیں جاری رہیں، لیکن مستقل حل سامنے نہیں آیا۔

ٹرمپ نے جون میں معاہدے کے اعلان کے وقت اسے عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا تھا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے نئے دور کی امید ظاہر کی تھی۔ ان کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب اس جنگ بندی کو اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام سمجھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے تازہ خطاب میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکا ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے کے لیے تیار ہے یا مستقبل میں فوجی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

تازہ ترین خبریں

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C