14/July/2026

ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا دعویٰ

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا دعویٰ

ٹرمپ کا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا دعویٰ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نگرانی اور تحفظ کا کردار ادا کرے گا۔

 

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ "آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران کی موجودگی یا عدم موجودگی میں بھی کھلی رہے گی۔" انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ بحال کر رہا ہے۔

 

امریکی صدر کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایرانی جہازوں اور ایران کے تجارتی شراکت داروں کی آمد و رفت کو محدود کرنا ہے، تاہم دیگر ممالک آبنائے ہرمز کو "منصفانہ اور آزادانہ" طور پر استعمال کر سکیں گے۔

 

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں امریکہ کو "آبنائے ہرمز کا محافظ" کہا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک "انتہائی غیر مستحکم خطے میں سلامتی اور تحفظ" فراہم کرنے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے امریکہ تمام کارگو پر 20 فیصد ادائیگی وصول کرے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ اس نظام کے قیام اور عملدرآمد کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔

 

آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا دعویٰ

 

فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ "ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کو چلائے گا" اور الزام عائد کیا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

 

انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ایران میں کیے گئے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کو "شدید نقصان" پہنچایا ہے۔

 

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے، ان کے مطابق ایران کا زیادہ تر فوجی سامان اور فضائی دفاعی نظام ختم ہو چکا ہے۔

 

سینٹکام کا ناکہ بندی شروع کرنے کا اعلان

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی 14 جولائی کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے دوبارہ شروع کی جائے گی۔

 

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ناکہ بندی فوری طور پر نافذ کی جائے گی۔

 

سینٹکام نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج ان تمام بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کریں گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے روانہ ہوں گے۔

 

امریکی فوج نے کہا کہ وہ ان جہازوں کی آمد و رفت میں معاونت جاری رکھے گی جو ناکہ بندی کی خلاف ورزی نہیں کر رہے۔

 

امریکی حکام نے تجارتی جہازوں کے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ سمندری اعلانات پر نظر رکھیں، خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیوں کے دوران امریکی بحری افواج سے رابطے میں رہیں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

 

بحری سلامتی کے خطرات میں اضافہ

 

دوسری جانب جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (JMIC) نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف ممکنہ امریکی بحری ناکہ بندی سے قبل ایک مشاورتی نوٹ جاری کیا ہے۔

 

برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے اس نوٹس کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں سمندری سلامتی کا خطرہ بدستور "شدید" سطح پر ہے۔

 

مشاورتی نوٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں مزید "جان بوجھ کر کی جانے والی دشمنانہ سرگرمیوں" کا امکان موجود ہے۔

 

بحری جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں فوجی بحری موجودگی، پاسداران انقلاب (IRGC) کی جانب سے بڑھتی ہوئی نگرانی اور رابطوں میں اضافے کے لیے تیار رہیں۔

 

بحری عملے کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ناکہ بندی نافذ کرنے والی فورسز کی ہدایات پر عمل کریں، اپنے سفر کے مقصد کو واضح رکھیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بحری پابندی یا کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل، توانائی کی منڈیوں اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C