23/October/2026

ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ زیرِ غور، امریکی و اسرائیلی فوج نے انتخابات کے بعد کارروائی کی تیاری کرلی، رپورٹ

👁️ 66 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ زیرِ غور، امریکی و اسرائیلی فوج نے انتخابات کے بعد کارروائی کی تیاری کرلی، رپورٹ

ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملوں کا منصوبہ زیرِ غور، امریکی و اسرائیلی فوج نے انتخابات کے بعد کارروائی کی تیاری کرلی، رپورٹ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں، جبکہ امریکی اور اسرائیلی فوج نے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کے منصوبے تیار کرلیے ہیں۔ امریکی جریدے دی اٹلانٹک اور عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ممکنہ کارروائی مختصر لیکن شدید ہوسکتی ہے، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی منظوری دینے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

جریدے دی اٹلانٹک کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ میں ایران پر معاشی دباؤ برقرار رکھنے اور فوجی حملوں کا دوبارہ آغاز کرنے، دونوں راستوں پر غور کیا جارہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے منسوب مؤقف یہ ہے کہ پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھا کر تہران کو مذاکرات میں رعایتیں دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو مبینہ طور پر نئی فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ، جسے ترک خبر رساں ادارے انادولو اور دیگر عالمی ذرائع نے بھی نقل کیا، کے مطابق ممکنہ حملوں کے اہداف میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، جوہری تنصیبات اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوجی سرگرمیوں اور مشقوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ عراق کی فضائی حدود میں پروازوں کے ذریعے حملوں کی مشقیں کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی اسرائیل میں نیتن یاہو سے ملاقات میں بھی ممکنہ کارروائی کے معاملے پر بات چیت کی اطلاع دی گئی ہے۔

تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے 8 اکتوبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مفید مذاکرات جاری ہیں اور امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اس اعلان کے ساتھ ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔ اس بیان کے بعد سامنے آنے والی تازہ رپورٹس میں ممکنہ حملوں کا وقت انتخابات کے بعد بتایا جارہا ہے، لیکن یہ اب بھی رپورٹ شدہ منصوبے ہیں، کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ میں اس حکمت عملی پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے معاشی دباؤ کافی ہوگا یا مزید فوجی کارروائی کی ضرورت پڑے گی۔ دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیتوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق اختلافات مذاکرات میں اہم رکاوٹیں بنے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کشیدگی میں اضافہ عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔

موجودہ صورت حال میں ایران پر دوبارہ حملوں کے امکان نے خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے، تاہم کارروائی کے وقت، دائرہ کار اور اہداف سے متعلق حتمی صورت حال امریکی صدر کے فیصلے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت سے واضح ہوگی۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C