02/November/2026

پاکستان میں روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان میں روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد(ڈیلی اردو) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد دہشتگردوں کے ساتھ ان کے معاونین اور سہولت کاروں کے نیٹ ورکس کو بھی ختم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ملک میں ہونے والی تمام دہشتگردی کا ذمہ دار صرف افغانستان کو قرار نہیں دیتا بلکہ اندرونی کمزوریوں اور دہشتگردی کو تقویت دینے والے عناصر سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔

30 اکتوبر کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک کے اندر موجود دہشتگردوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق روزانہ ہونے والے تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے حصہ لیتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس کارروائیاں

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کی کارروائیاں کسی بڑے پیمانے کے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے صوبے کے عوام کو دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے شہری امن، تحفظ اور استحکام چاہتے ہیں اور انہیں پُرامن ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی سابق صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے بعض سہولت کاروں میں شامل قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کی نااہلی اور عدم دلچسپی نے انسدادِ دہشتگردی کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک ایسا عنصر جو دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہا تھا، اب اس پوزیشن پر موجود نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے صوبائی حکومت کی تبدیلی سے متعلق سوال پر اسے سیاسی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ اس بارے میں سیاستدان بہتر جواب دے سکتے ہیں، تاہم فوجی ادارے کے نقطۂ نظر کے مطابق یہ تبدیلی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہوئی۔

افغانستان میں دہشتگردوں کی قیادت اور تربیتی مراکز کی موجودگی کا دعویٰ

افغانستان کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو ملک میں ہونے والی ہر دہشتگردی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھتا، تاہم ان کے بقول پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کی قیادت، تربیتی مراکز اور حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ٹھکانے افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سرحد پار موجود نیٹ ورکس کے ساتھ پاکستان کے اندر موجود سہولت کاروں اور معاون عناصر کو بھی ہدف بنانا ہوگا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔

بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کا الزام

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ دہشتگرد گروہ اپنے مبینہ سرپرستوں کے ایما پر صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کان کنی کے منصوبے، ایل پی جی لے جانے والے ٹرک، اسکول، اساتذہ، پل اور ریلوے لائنیں بھی حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنا اور مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع سے محروم رکھنا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بلوچستان میں پائیدار ترقی اور عوام کی معاشی خودمختاری دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کا اہم حصہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے صوبے کے بااثر طبقوں کے بعض حصوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں کو غربت اور ناخواندگی میں رکھ کر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول دہشتگرد عناصر اور بااثر طبقوں کے مفادات بعض معاملات میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں، جس سے صوبے کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ یہ ان کا سیاسی و انتظامی صورتحال سے متعلق مؤقف اور الزام ہے، جسے کسی آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی اور ترقی دونوں اہم قرار

ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ان کے مالی، انتظامی اور دیگر معاون نیٹ ورکس کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون، مؤثر انٹیلی جنس معلومات اور ترقیاتی سرگرمیوں کا تسلسل ملک میں امن و استحکام کے لیے اہم ہیں۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا کی سابق حکومت سے متعلق الزامات کے سیاسی پہلو پر بھی اختلاف موجود ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں دہشتگردی سے نمٹنے میں ناکامی کے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی معطلی اور وزیراعلیٰ کی گرفتاری کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے خلاف اقدام قرار دیا تھا۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C