07/January/2026

یمن: سعودی اتحاد اور علیحدگی پسندوں کے درمیان نئی کشیدگی

👁️ 180 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن: سعودی اتحاد اور علیحدگی پسندوں کے درمیان نئی کشیدگی

یمن: سعودی اتحاد اور علیحدگی پسندوں کے درمیان نئی کشیدگی

صنعاء (ڈیلی اردو) یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے بدھ کو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند قوتوں پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے جنوبی صوبے الضالع میں کیے گئے اور انہیں ’’پیشگی محدود حملے‘‘ قرار دیا گیا۔ سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کی فورسز کو روکنے کے لیے کی گئی، جو صوبے میں بدامنی پیدا کرنے کی تیاری کر رہی تھیں۔

 

 سعودی اتحاد نے الزبیدی پر عدن میں ہتھیار تقسیم کرنے کا بھی الزام لگایا۔ عدن یمنی حکومت کا عبوری دارالحکومت ہے۔ یمنی حکومت کی صدارتی کونسل نے الزبیدی کی رکنیت ختم کرتے ہوئے ان پر غداری کا الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل کا کہنا ہے کہ الزبیدی اب بھی عدن میں موجود ہیں اور فضائی حملوں سے صرف شہریوں کو نقصان پہنچا ہے۔

 

 کونسل نے اس حملے کو ایک افسوسناک عمل قرار دیا، جو مذاکرات کے ماحول سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سعودی عرب نے یمنی دھڑوں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ کونسل جنوبی یمن کی علیحدگی چاہتی ہے اور دو سال کے عبوری دور کے بعد ریفرنڈم کرانا چاہتی ہے۔

 

 گزشتہ ماہ کونسل کی فورسز نے مشرقی یمن کے کئی علاقے قبضے میں لے لیے، جو سعودی عرب سے ملحقہ ہیں۔ اس سے ریاض کو سلامتی کے خدشات لاحق ہوئے۔ یہ واقعات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تناؤ کو بھی ظاہر کرتے ہیں، حالانکہ دونوں ملک حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی اتحاد کا حصہ ہیں۔

 

 متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ہفتے یمن سے اپنی فوجوں کے مکمل انخلا کا اعلان کیا تھا۔ یمن 2014ء سے جنگ کا شکار  ہے۔ ایک طرف سعودی حمایت یافتہ حکومت ہے اور دوسری طرف ایران نواز حوثی باغی، جو شمال کے بڑے علاقوں سمیت دارالحکومت صنعاء پر قابض ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C