05/October/2026

یمن میں بڑی فوجی کارروائی، حکومتی فورسز کا باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ، صنعاء کی جانب پیش قدمی کا اعلان

👁️ 50 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں بڑی فوجی کارروائی، حکومتی فورسز کا باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ، صنعاء کی جانب پیش قدمی کا اعلان

یمن میں بڑی فوجی کارروائی، حکومتی فورسز کا باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ، صنعاء کی جانب پیش قدمی کا اعلان

صنعاء(ڈیلی اردو) یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حکومتی فورسز نے بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کردی ہے، جس کے دوران یمنی فوج نے باب المندب کے اہم علاقے اور ذوباب ایئرپورٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی فورسز نے اس کارروائی کو ’’فجر الیمن‘‘ کا نام دیتے ہوئے صنعاء کی جانب ایک ’’اسٹریٹجک حملے‘‘ کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان میجر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق سدرن جائنٹس بریگیڈز اور نیشنز شیلڈ فورسز نے باب المندب کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے اہم مقامات اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذوباب ایئرپورٹ بھی حکومتی فورسز کے کنٹرول میں آ گیا ہے جبکہ ذوباب اور المخا کے درمیان اہم راستے پر بھی فائر کنٹرول قائم کرلیا گیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے بھی باب المندب پر مؤثر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم علاقے میں لڑائی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور ایک حکومتی ذریعے نے آبنائے کے قریب ایک فوجی اڈے پر جھڑپیں جاری رہنے کی تصدیق کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے حکومتی پیش قدمی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’’بالکل غلط‘‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ایران نواز  حوثی باغیوں سے منسلک میڈیا اور ذرائع نے ذوباب کی جانب حکومتی فورسز کی پیش قدمی کے دعووں کی تردید کی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے چلائی جانے والی سبا نیوز ایجنسی نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی خبریں اپنی ناکامیوں اور نقصانات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ تاہم میدانِ جنگ کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہوسکی۔

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے پیر کو ’’فجر الیمن‘‘ فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق کارروائی کا مقصد حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ریاستی اداروں کی عملداری بحال کرنا اور بالخصوص دارالحکومت صنعاء پر دوبارہ حکومتی کنٹرول قائم کرنا ہے۔

آپریشن میں سعودی عرب کی فضائی معاونت بھی بڑے پیمانے پر شامل ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق کارروائی کے آغاز میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا جبکہ اتحاد کا دعویٰ ہے کہ 324 ’’اہم اہداف‘‘ تباہ کیے جا چکے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق باب المندب کو فضائی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور زمینی کارروائیوں میں مصروف یمنی فورسز کو مسلسل فضائی معاونت دی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی یمن میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں میں پیش قدمی کی۔ اے پی کے مطابق موجودہ فوجی کارروائی نے 2022 میں قائم ہونے والی نسبتاً طویل جنگ بندی کے خاتمے کے بعد یمن کی جنگ کو ایک نئے اور شدید مرحلے میں داخل کردیا ہے۔

دوسری جانب رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ حکومتی فورسز کی باب المندب کے اطراف پیش قدمی کے ساتھ ساتھ حوثیوں نے تعز کے قریب بھی جوابی پیش قدمی کی ہے اور بعض اہم راستوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے تعز کے اطراف پہاڑی راستوں کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا ہے، تاہم ایک دوسرے حکومتی ذریعے نے بعض دعووں کی تردید کی ہے۔

باب المندب کی لڑائی خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ اس علاقے پر کسی بھی فریق کا فوجی کنٹرول عالمی تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم اثرات رکھتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی فورسز اگر ساحلی علاقوں سے پیچھے بھی ہٹیں تو اندرونی علاقوں سے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے بحری جہازوں کو خطرہ برقرار رکھ سکتی ہیں۔

تازہ صورتحال میں یمنی حکومتی فورسز باب المندب اور ذوباب میں کامیابی کا دعویٰ کر رہی ہیں، جبکہ حوثی باغی ان دعووں کو مسترد کرتے ہیں۔ اس لیے صنعاء کی جانب کسی بڑی پیش قدمی یا باب المندب پر مکمل اور مستقل کنٹرول کے بارے میں حتمی تصویر مزید زمینی معلومات اور آزادانہ تصدیق کے بعد ہی واضح ہوگی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C