01/May/2025

یورپی یونین کا بھارت اور پاکستان سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ، کشیدگی پر تشویش

👁️ 125 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یورپی یونین کا بھارت اور پاکستان سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ، کشیدگی پر تشویش

یورپی یونین کا بھارت اور پاکستان سے تحمل اور مذاکرات کا مطالبہ، کشیدگی پر تشویش

برسلز (نمائندہ ڈیلی اردو/ نیوز ایجنسیاں) یورپی یونین نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ فوجی تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنائیں۔ یہ بیان بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بھارتی میڈیا کے مطابق دو درجن سے زائد سیاح ہلاک ہوئے تھے۔

یورپی یونین کی ترجمان انور العنونی نے برسلز میں روزانہ کی پریس کانفرنس کے دوران کہا، ’’ای یو نے ہمیشہ اس صورتحال کے ایک پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ہے، جو بات چیت اور رابطہ کاری پر مبنی ہو۔ دہشت گردانہ حملے کے بعد یہ خاص طور پر اہم ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ تحمل کا مظاہرہ کرنا اور ایسی کسی فوجی، سیاسی یا معاشی کارروائی سے گریز کرنا ضروری ہے جو خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔ ترجمان کے مطابق یورپی یونین کو امید ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان رابطے کے چینلز کھلے رہیں گے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لاین نے پہلگام حملے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’آج کے گھناؤنے دہشت گردانہ حملے نے بہت سی بے گناہ جانیں لے لیں۔ میں جانتی ہوں کہ بھارت کا جذبہ ناقابلِ تسخیر ہے۔ یورپ آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘

اس واقعے کے بعد بھارت نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے مسلح افواج کو جوابی کارروائی کے وقت، اہداف اور طریقہ کار کا خود فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی ہے، جبکہ پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کا حملہ 24 سے 36 گھنٹوں کے اندر متوقع ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یورپی یونین نے رسمی بیانات جاری کیے ہیں، پردے کے پیچھے امریکہ، چین اور یورپی ممالک کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ فری یونیورسٹی برسلز کے سکیورٹی ماہر ڈاکٹر کلاؤڈ راکسیٹس کے مطابق “عوامی سطح پر زیادہ سرگرمی نظر نہیں آ رہی، مگر پسِ پردہ متعدد فون کالز جاری ہیں تاکہ صورت حال قابو میں رہے۔”

تاہم ڈاکٹر راکسیٹس نے تسلیم کیا کہ یورپی یونین کی موجودہ ترجیحات یوکرین اور غزہ میں ہیں اور برصغیر میں ان کا کردار محدود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری بیک وقت چند ہی بحرانوں پر توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔

جنوبی ایشیائی امور کے ماہر پرمیت پال چوہدری کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اب بھارت سے کسی سخت ردعمل کی صورت میں اختلاف نہیں کرے گی کیونکہ اس کے بھارت کے ساتھ تجارتی و دفاعی مفادات وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق، “یورپی یونین، بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے اور چین سے سپلائی چینز کو ہٹاکر بھارت کو متبادل سمجھ رہی ہے۔”

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے بھی بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’فرانس بھارت اور اس کے عوام کے ساتھ غم کی اس گھڑی میں کھڑا ہے۔ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ یورپی یونین انسانی حقوق جیسے مسائل پر بھارت سے ماضی میں اختلاف رکھتی رہی ہے، موجودہ صورتحال میں اس کا مؤقف زیادہ حقیقت پسندانہ اور بھارت کے حق میں نظر آتا ہے، خصوصاً جب بھارت کو ایک ممکنہ معاشی اور اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C