14/March/2025

آرمینیا اور آذربائیجان: تنازعات کے حل کیلئے امن معاہدہ طے

👁️ 104 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آرمینیا اور آذربائیجان: تنازعات کے حل کیلئے امن معاہدہ طے

آرمینیا اور آذربائیجان: تنازعات کے حل کیلئے امن معاہدہ طے

باکو + یریوان (ڈیلی اردو/رائٹرز/ڈی پی اے) آذربائیجان کی جانب سے نگورنو کاراباخ پر دوبارہ قبضے اور شدید اختلافات کے بعد سے امن مذاکرات میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ امن معاہدہ دہائیوں سے جاری دشمنی ختم کرنے کا باعث بنے گا۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ انہوں نے تقریباً چار دہائیوں سے جاری تنازعے کو ختم کرنے کے لیے ایک امن معاہدے کے متن پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسے ایک تلخ اور بہت ہی سخت تنازعے میں امن کی جانب ایک اچانک اہم پیش رفت کہا جا رہا ہے۔

سوویت یونین سے آزاد ہونے والے دونوں ممالک کے درمیان سن 1980 کی دہائی کے اواخر سے ہی جنگوں کا ایک طویل سلسلہ چلا ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ آذربائیجان کا نگورنو کاراباخ کا ایک علاقہ، جس میں زیادہ تر نسلی آرمینیائی آباد تھے، آرمینیا کی حمایت سے آذربائیجان سے الگ ہو گیا تھا۔

معاہدے کی شرائط پر اتفاق

آرمینیا کی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ آذربائیجان کے ساتھ امن معاہدے کے مسودے کو اس کی جانب سے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

وزارت خارجہ نے مزید کہا، “امن معاہدہ دستخط کرنے کے لیے تیار ہے۔ آرمینیا جمہوریہ آذربائیجان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کی تاریخ اور جگہ پر مشاورت شروع کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔”

ادھر آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے کہا، “ہم اطمینان کے ساتھ اس بات کو نوٹ کرتے ہیں کہ امن اور آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان بین الریاستی تعلقات کے قیام سے متعلق معاہدے کے مسودے کے متن پر مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں۔”

بعض مسائل اب بھی توجہ طلب ہیں

اس مذکورہ معاہدے پر تاہم دستخط کرنے کی ٹائم لائن اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ آذربائیجان کا کہنا ہے کہ وہ اس پر دستخط اسی شرط پر کرے گا، جب آرمینیا کے آئین میں ان باتوں کو تبدیل کیا جائے، جس میں اس کی سرزمین پر بعض دعوے کیے گئے ہیں۔

آرمینیا ایسے دعووں کی تردید کرتا ہے لیکن وزیر اعظم نکول پشینیان نے حالیہ مہینوں میں یہ بات کئی بار کہی ہے کہ ملک کے بنیادی دستاویز کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے کے لیے انہوں نے ریفرنڈم کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ البتہ اس کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

معاہدے میں کیا ہے؟

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے پشینیان کا حوالہ دیتے ہوئے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ آرمینیا اور آذربائیجان کی سرحدوں پر تیسرے ممالک کے اہلکاروں کی تعیناتی کو روکے گا۔

اس شق میں ممکنہ طور پر یورپی یونین کے نگرانی کے اس مشن کا بھی احاطہ کیا گیا ہے، جس پر باکو تنقید کرتا رہا ہے اور ساتھ ہی اس میں روس کے سرحدی محافظین کا بھی ذکر ہے، جو آرمینیا کی بعض سرحدوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ آذربائیجان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، جبکہ آرمینیا میں عیسائیوں کی زیادہ آبادی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سن اسی کی دہائی کے اواخر میں تنازعے کے آغاز اور دشمنیوں کے سبب لاکھوں مسلمان آذری باشندوں اور آرمینیائی باشندوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل ہونا پڑا۔

آذربائیجان نے ستمبر 2023 میں نگورنو کاراباخ کے علاقے کو طاقت کے ذریعے واپس لینے کے بعد امن مذاکرات شروع کیے تھے۔ اس قبضے کے بعد علاقے کے تقریباً تمام 100,000 آرمینیائی باشندوں کو آرمینیا فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔

دونوں فریقوں نے امن مذاکرات کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ طویل عرصے سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے ہیں، لیکن یہ پیش رفت سست رو رہی اور تعلقات کشیدہ بھی رہے۔

جنوری میں آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے آرمینیا پر ایک “فاشسٹ” خطرہ پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، اسے تباہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C