افغان علماء کا طالبان سے بیرونِ ملک لڑنے والوں کو روکنے کا مطالبہ، پاکستان کا محتاط ردعمل
👁️ 376 بار دیکھا گیا
افغان علماء کا طالبان سے بیرونِ ملک لڑنے والوں کو روکنے کا مطالبہ، پاکستان کا محتاط ردعمل
اسلام آباد/کابل (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/نیوز ایجنسیاں) پاکستان نے جمعرات کے روز کابل میں 1000 سے زائد افغان علمائے کرام کے جاری کردہ اس اعلامیے کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے، جس میں افغان شہریوں کو بیرون ملک عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے۔ تاہم اسلام آباد حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا اثر افغان طالبان کی قیادت کی طرف سے تحریری یقین دہانیوں پر منحصر ہو گا۔
افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی قیادت میں ہونے والے علما کرام کے اجلاس نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ "کسی بھی افغان شہری" کو بیرونِ ملک عسکری کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ جائز نہیں ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد نے کابل اجتماع کے اس پانچ نکاتی مشترکہ اعلامیے کا "مثبت نوٹ" لیا ہے، جس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو بھی "افغانستان کی سرحدوں سے باہر فوجی آپریشن" کرے گا اسے بغاوت تصور کیا جائے گا اور امیر کے احکامات کی خلاف ورزی پر سزا دی جائے گی۔
اس بیان کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط مذہبی توثیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ علماء کونسل کی اس قرارداد میں پاکستان کا نام نہیں لیا گیا، تاہم مانا جا رہا ہے کا اس کا اشارہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسےگروپوں کی طرف ہے۔
پاکستان کا رد عمل
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا، “اگر افغان معاشرے کے طبقات کو اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہے کہ ان کی سرزمین نہ صرف ٹی ٹی پی، ایف اے کے جیسے گروپ کے ساتھ ہی ان کے اپنے شہری بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تو یہ احساس مثبت اور خوش آئند ہے۔”
تاہم، انہوں نے اس کے لیے تحریری ضمانت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے دستاویز کا "انتظار کرے گا، اسے دیکھے گا اور اس کا جائزہ بھی لے گا"۔ انہوں نے مزید کہا، “افغان طالبان کی حکومت کی جانب سے ماضی میں کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ثالثی کے دوران اور مذاکرات کے دوران بھی پاکستان نے تحریری یقین دہانیوں پر اصرار کیا ہے۔”
اس موقع پر دفتر خارجہ نے انسانی امداد کی راہداریوں پر تازہ تنازعات کی شدت کو میں بھی کمی لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے حال ہی میں افغانستان میں امدادی قافلوں کو جانے کی اجازت دینے کے لیے سرحدی گزرگاہیں کھول دی تھیں۔
تاہم طالبان انتظامیہ نے عوامی سطح پر اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔
اندرابی نے کہا، “ہماری طرف سے امدادی قافلے کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ اب افغانستان کی طالبان حکومت یہ انسانی امداد لینا چاہتی ہے یا نہیں یہ ان پر منحصر ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ امداد کی ضرورت والی ریاست اس سے انکار کرے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان "افغانستان کے اپنے بھائیوں کے لیے اپنی وابستگی اور دیکھ بھال کے حصے کے طور پر" امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
افغان علماء کونسل کی قرارداد میں کیا ہے؟
افغان علماء کونسل کی قرارداد میں طالبان کی عبوری حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک جا کر لڑنے والے افغان شہریوں کو روکنے کی کوشش کرے۔
یہ قرارداد ایک ایسے وقت منظور کی گئی ہے، جب پاکستان کی تمام کوششوں کے باوجود افغان طالبان ٹی ٹی پی کی کارروائیاں روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی کے سبب دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئی ہیں اور کشیدگی پائی جاتی ہے۔
اس قرارداد کی ایک شق میں یہ بھی کہا گیا ہے، “افغانستان پر حملہ کرنے والی بیرونی جارحیت کے خلاف لڑنے کو ایک لازمی فریضہ اور مقدس جہاد سمجھا جائے گا۔”
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی باہر سے افغانستان پر حملہ کرتا ہے یا مسلمانوں کے تقدس کو پامال کرتا ہے تو تمام افغانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے نظام، سرزمین اور اقدار کا دفاع کریں۔
پاکستان اور افغانستان کے ماہرین اس قرارداد کو ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ البتہ یہ آزاد علما کونسل کی طرف سے آئی ہے اور طالبان حکومت کی طرف سے اس کی رسمی طور پر توثیق نہیں ہوئی ہے۔
اس میں پاکستان کا نام بھی نہیں لیا گیا ہے تاہم، اتنا کہا گیا ہے کہ جو کوئی بھی "افغانستان کی سرحدوں سے باہر فوجی آپریشن کرے گا اسے ریاست کے خلاف باغی تصور کیا جائے گا'' اور اس طرح کے اقدام کو طالبان کے "امیر کے احکامات کی خلاف ورزی" تصور کیا جائے گا اور ایسی سرگرمیاں قابل سزا جرم ہوں گی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: فوجی افسر کی اہلیہ کے خلاف حساس معلومات غیر ملکی اداروں کو دینے کے الزام میں مقدمہ درج
18/October/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں کشیدگی بڑھ گئی، ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجو پیچھے ہٹنے پر مجبور
18/October/2026 👁️ 32 بار دیکھا گیا
امریکا کے تعاون سے ایران پر 36 ہزار بم گرائے، جوہری پروگرام تباہ کردیا،اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ
18/October/2026 👁️ 40 بار دیکھا گیا
خضدار: ماربل فیکٹری پر مسلح حملہ، مالک کے بیٹے سمیت 18 افراد اغوا، ایک مزدور زخمی
18/October/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
یمن میں تعز اور باب المندب کے محاذ گرم، جنوبی جائنٹس بریگیڈز کا حوثیوں کے خلاف نئے حملے کا دعویٰ
18/October/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
اسحاق ڈار کے ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطے، سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت
18/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26380 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15618 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11912 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9265 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7520 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5471 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C