24/October/2026

ایران پر امریکی حکام اور سفارت کاروں کے قتل کی منصوبہ بندی تیز کرنے کا الزام، انٹیلی جنس انتباہ جاری

👁️ 93 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر امریکی حکام اور سفارت کاروں کے قتل کی منصوبہ بندی تیز کرنے کا الزام، انٹیلی جنس انتباہ جاری

ایران پر امریکی حکام اور سفارت کاروں کے قتل کی منصوبہ بندی تیز کرنے کا الزام، انٹیلی جنس انتباہ جاری

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی انٹیلی جنس نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں امریکی حکام اور سفارت کاروں کو قتل کرنے کی کوششیں نمایاں طور پر تیز کردی ہیں، جبکہ مبینہ منصوبے پیش رفت کے جدید مراحل تک پہنچ چکے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق 23 اکتوبر کو جاری کیے گئے ایک غیر خفیہ انٹیلی جنس میمو میں یہ انتباہ دیا گیا، جسے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو بھیجا گیا تھا۔

اسکائی نیوز عربیہ اور ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن نے میمو میں کہا کہ ایران سے منسوب مبینہ قتل کی منصوبہ بندی سے متعلق انٹیلی جنس معلومات مزید امریکی اہلکاروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے، کیونکہ فی الحال ان معلومات تک رسائی رکھنے والے افراد کی تعداد محدود ہے۔ میمو میں یہ بھی کہا گیا کہ حساس معلومات کو مناسب حد تک غیر خفیہ بنا کر زیادہ متعلقہ اہلکاروں کے ساتھ شیئر کیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک صفحے پر مشتمل میمو میں ممکنہ اہداف، متعلقہ ممالک یا مبینہ منصوبوں کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ تاہم اس میں کہا گیا کہ بنیادی انٹیلی جنس معلومات امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام کو پہلے ہی فراہم کی جاچکی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان خدشات نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتی عملے کی سلامتی سے متعلق تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے کے اقدامات

ایکسیوس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر خطے میں اپنے بعض سفارتی مشنز پر عملے کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ اس ہفتے کے آغاز میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے اور جدہ و ظہران کے قونصل خانوں سے غیر ضروری عملے اور اہلکاروں کے اہل خانہ کو روانہ ہونے کی ہدایت دی گئی تھی۔ بعد ازاں متحدہ عرب امارات، لبنان، قطر اور اردن میں امریکی سفارتی مشنز کے عملے میں بھی کمی کے احکامات دیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان اقدامات کے پس منظر میں ایران سے منسوب مبینہ خطرات کے علاوہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے ممکنہ حملوں کے خدشات بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کو اندیشہ ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی بڑھی تو حوثی باغی سعودی عرب سے آگے دیگر ممالک کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کا خدشہ

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کے امکان پر بھی تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ فوجی اقدامات کے وقت کے حوالے سے امریکی وسط مدتی انتخابات اور اسرائیل میں سیاسی سرگرمیوں کو بھی زیرِ بحث لایا جارہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ریاست فلوریڈا میں انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور محدود کارروائی کرسکتا ہے یا تہران کسی معاہدے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فوجی دباؤ اور مذاکرات، دونوں امکانات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C