10/December/2023

بلوچستان: خضدار میں دھماکا، سی ٹی ڈی افسر ہلاک

👁️ 36 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: خضدار میں دھماکا، سی ٹی ڈی افسر ہلاک

بلوچستان: خضدار میں دھماکا، سی ٹی ڈی افسر ہلاک

کوئٹہ (ڈیلی اردو) صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں ہونے والے بم دھماکے میں کاؤنٹر ٹرارزم ڈیبارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا افسر ہلاک ہوگیا۔

پولیس کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار میں سلطان ابراہیم روڈ پر دھماکا کاؤنٹر ٹرارزم ڈیبارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی گاڑی پر کیا گیا، دھماکے میں ایس ایچ او نے جام شہادت نوش کیا۔

نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر دھماکا خیز مواد ہلاک ہونے والے ایس ایچ او محمد مراد کی گاڑی کے نیچے یا گاڑی کے اندر نصب تھا۔

ایس ایس پی خضدار میر حسین لہری نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو کو بتایا کہ میگنیٹک بم کو ایس ایچ او سی ٹی ڈی کی چلتی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

دھماکے میں ابوبکر نامی ایک راہگیر زخمی بھی ہوا ہے، جائے وقوع پر پولیس، ایف سی کی ٹیمیں پہنچ کر مزید تفتیش کر رہی ہے، ہلاک ہونے والے ایس ایچ او کی لاش اور زخمی کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال خضدار منتقل کردیا گیا ہے۔

نگران وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے خضدار دھماکے میں پولیس افسر کی ہلاکت پر اظہار افسوس کیا ہے۔

انہوں نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔

اپنے ایک جاری بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عوام کے جانی و مالی کے تحفظ پر مامور سیکیورٹی فورسز پر حملہ قابل مذمت ہے، ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے خضدار دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سی ٹی ڈی ایس ایچ او محمد مراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے ہلاک کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس گھڑی میں شہید پولیس افسر کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں زخمی راہگیر کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر بلوچستان میں امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں، بلوچستان سمیت ملک بھر سے دہشت گردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ پوری قوم وطن کی خاطر جانیں قربان کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے گزشتہ برس نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں خاص طور پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

3 روز قبل بھی بلوچستان میں صحبت پور کے علاقے حسین آباد میں بارودی مواد پھٹنے سے دھماکا ہوا تھا جس میں 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے گزشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ نومبر کے دوران دہشت گردوں نے کُل 63 حملے کیے جس کے نتیجے میں 83 اموات ہوئیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کے 37 اہلکار اور 33 شہری بھی شامل تھے، مزید برآں 89 افراد زخمی ہوئے جن میں 53 عام شہری اور 36 سیکورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

اکتوبر کے اعداد و شمار کے ساتھ ایک تقابلی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ نومبر کے دوران دہشت گردوں کے حملوں میں 34 فیصد اضافہ، اموات میں 63 فیصد اضافہ اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں 89 فیصد اضافہ ہوا۔

پی آئی سی ایس ایس کے ڈیٹابیس کے مطابق 2023 کے 11 ماہ میں مجموعی طور پر 599 دہشت گرد حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں 897 اموات ہوئیں اور ایک ہزار 241 افراد زخمی ہوئے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس دہشت گردوں کے حملوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا، ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی اموات میں 86 فیصد اضافہ اور زخمیوں کی تعداد میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C