’جدید فوجی اسلحہ ٹی ٹی پی کے ہاتھ کیسے لگا‘ تحقیقات کی جائیں، پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ
👁️ 30 بار دیکھا گیا
’جدید فوجی اسلحہ ٹی ٹی پی کے ہاتھ کیسے لگا‘ تحقیقات کی جائیں، پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ
نیو یارک (ڈیلی اردو/اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں جدید ہتھیاروں تک رسائی ایک بڑا خطرہ ہے، جس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔
افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے بدھ کو خطاب میں منیر اکرم نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے حملے مزید مہلک ہو گئے ہیں کیوں کہ انہوں نے جدید ترین فوجی ساز و سامان اور ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔
At the Security Council’s UNAMA briefing on Afghanistan earlier today, I explained Pakistan's security challenges emanating from Afghanistan and provided context to the implementation of Illegal Foreigners' Repatriation Plan.
My full statementhttps://t.co/osIlywpZeO
— Munir Akram, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) December 21, 2023
منیر اکرم کا کہنا تھا کہ یہ جدید ہتھیار اس سٹاک یعنی ذخیرے سے حاصل کیے گئے ہیں جو غیر ملکی افواج انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑ کر نکلیں۔ ’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ایک تنظیم (ٹی ٹی پی) ان ہتھیاروں تک رسائی کیسے حاصل کر سکتی ہے؟‘
Any process of engagement with the Afghan Interim Government should be guided by its response to the core concerns of the international community; respect for human rights, political inclusivity and action to neutralize the terrorist organizations in Afghanistan@PakistanPR_UN pic.twitter.com/WRgQga05JX
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) December 21, 2023
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس بات کی مکمل جانچ کرے کہ یہ ہتھیار کیسے ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگے اور وہ ان کو واپس کرانے کا راستہ تلاش کرے۔‘
منیر اکرم نے کہا کہ ’اگرچہ رپورٹس ہیں کہ افغان عبوری حکومت داعش کے خلاف لڑائی میں کامیابی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی افغانستان کی سرزمین پر کئی دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور اس بات کے شواہد ہیں کہ انہیں افغانستان کی عبوری حکومت کا تحفظ حاصل ہے۔‘
اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے کہا کہ ’پاکستان کو خاص طور پر کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیمیں سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کے تسلسل سے پیش آنے والے واقعات میں ملوث ہیں، جس سے ہمارے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا قابل ذکر جانی نقصان ہوا ہے جب کہ فوجی اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ صرف رواں سال ایسے حملوں میں سینکڑوں شہری اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 23 پاکستانی فوجی جان سے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی سے جڑے ایک گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس حملے کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے افغان عبوری حکومت کے پاکستان میں ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے ’شدید احتجاج‘ ریکارڈ کروایا تھا۔
وزارت خارجہ کی طرف سے افغان عبوری حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ حملے سے متعلق مکمل تحقیقات اور سخت کارروائی کرے۔
پاکستانی حکومت کے عہدے دار کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت ملک کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
اسلام آباد، کابل سے مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ’دہشت گردی‘ کے لیے استعمال نہ ہونے دے اور افغانستان میں موجود ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔
افغانستان میں طالبان عبوری حکومت کے عہدیدار کہتے آئے ہیں کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
گذشتہ اتوار کو افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے مقامی ٹی وی چینل طلوع نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ افغان حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران 40 پاکستانی طالبان کو حراست میں لیا ہے اور اس خواہش بھی اظہار کیا کہ کابل حکومت پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کی خواہاں ہے۔
امریکہ میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے کو آرڈینیٹر فار سٹریٹیجک کمیونیکیشنز جان کربی نے منگل کو پریس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان میں مسلح گروپوں سے پاکستان کو شدت پسندی کا سامنا ہے۔
انخلا کے وقت امریکی کی جانب سے افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کی عسکریت پسند گروپوں تک رسائی سے متعلق سوال کے جواب میں جان کربی نے کہا کہ ’ہم نے افغانستان میں ہتھیاروں کا ذخیرہ نہیں چھوڑا۔ یہ ایک غلط تصور ہے، یہ ایک مذاق ہے۔‘
جان کربی نے کہا کہ امریکی فورسز نے کانگریس کی اجازت اور مشاورت سے افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کی 20 سال تک تربیت کی۔ انہوں نے کہا جب طالبان نے کابل کی جانب پیش قدمی کی تو افغان فوجیوں نے لڑائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہتھیار پھینک دیے۔
جان کربی نے کہا کہ ’آپ جس اسلحے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، وہ افغان نیشنل سکیورٹی فورسز کا تھا۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عدن ایئرپورٹ خالی کرنے کی حوثیوں کی وارننگ، میزائل حملے کی اطلاع؛ سعودی فوجی طیارے میں ہتھیار ہونے کا دعویٰ
28/October/2026 👁️ 29 بار دیکھا گیا
پاکستان کسی فوجی یا جرنیل کی جاگیر نہیں، ہم سب کا ہے، مولانا فضل الرحمان
28/October/2026 👁️ 47 بار دیکھا گیا
بنوں میں پولیس کی کارروائی، 3 دہشتگرد ہلاک
28/October/2026 👁️ 42 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، بی ایل اے کے 9 دہشتگرد ہلاک
28/October/2026 👁️ 50 بار دیکھا گیا
ایران کے خلاف جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے، گولہ بارود کی خریداری پر 29 ارب ڈالر خرچ
28/October/2026 👁️ 84 بار دیکھا گیا
شام میں دمشق۔حمص شاہراہ پر ڈرون حملہ، القاعدہ سے منسلک سابق تنظیم کا کمانڈر سمیت 3 افراد ہلاک
28/October/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26407 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15645 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11946 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9307 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7559 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5531 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C