29/March/2025

خیبر پختونخوا: مردان میں ڈرون حملے، 11 افراد ہلاک، مقامی افراد کا احتجاج

👁️ 117 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا: مردان میں ڈرون حملے، 11 افراد ہلاک، مقامی افراد کا احتجاج

خیبر پختونخوا: مردان میں ڈرون حملے، 11 افراد ہلاک، مقامی افراد کا احتجاج

واشنگٹن (ش ح ط) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کی تحصیل کاٹلنگ کے پہاڑی علاقے بابزئی میں شدت پسندوں کے خلاف کیے گئے ڈرون حملوں میں 11 افراد ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، جمعہ کی رات کیے گئے تین ڈرون حملے مبینہ طور پر پاکستانی طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔ تاہم، اب تک آئی ایس پی آر کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستان کی پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس علاقے میں سات فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی طالبان کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔

مقامی افراد نے احتجاج کرتے ہوئے مرنے والوں کی لاشیں سڑکوں پر رکھ دی ہیں اور دعویٰ کیا کہ “حملوں میں مارے جانے والے معصوم شہری تھے۔”

اے ایف پی نے ایک اور پولیس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے نقل کیا ہے، “یہ تحقیقات جاری ہیں کہ آیا حملے کے وقت طالبان جنگجو واقعی ان مقامات پر موجود تھے؟”

انہوں نے مزید کہا، “یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ یہ حملے شہری علاقوں میں کیے گئے یا وہاں طالبان پناہ لیے ہوئے تھے۔”

بتایا گیا ہے کہ ‘مسلح طالبان’ ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے، جہاں سے انہوں نے فوجی قافلے پر اچانک حملہ کر دیا۔ فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں آٹھ جنگجو ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے۔

احتجاج

حملوں کے بعد مقامی افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ہلاک شدگان کی لاشیں سوات ایکسپریس وے پر رکھ کر دھرنا دیا۔ مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ مرنے والے بے گناہ شہری تھے، جبکہ عسکری ذرائع نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں عام شہریوں کی موجودگی ممکن نہیں اور اگر کوئی موجود تھا تو وہ شدت پسندوں کے سہولت کار ہو سکتے ہیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کا ردعمل

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کارروائی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات کے بعد انسداد دہشت گردی کارروائی کی گئی۔

بیرسٹر سیف نے مزید وضاحت دی کہ ’بعدازاں موصول معلومات کے مطابق کارروائی کے مقام کے اطراف میں بعض غیر مسلح شہری موجود تھے۔ کارروائی میں غیر مسلح افراد کے مارے جانے پر افسوس ہے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔’

انہوں نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے امداد اور معاوضے کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، ’اس کارروائی میں کئی اہم شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا جو کہ علاقے میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے۔’

طبی ذرائع کی رپورٹ

ٹائپ ڈی ہسپتال کاٹلنگ کے میڈیکل سپرانٹینڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر لقمان کے مطابق، ہسپتال میں حملے کے بعد لائی گئی 9 لاشوں میں دو خواتین اور ایک نوعمر لڑکے کی لاش شامل ہے۔

انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ مرنے والوں میں دو خواتین اور سات مرد شامل ہیں، جن کے جسم بلاسٹ اور برن انجریز کے باعث جھلسے ہوئے تھے۔

عسکری کارروائی کی تفصیلات

مردان کے ایک سرکاری افسر نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بابزئی کے پہاڑوں میں مشتبہ شدت پسند گھنے درختوں میں چھپے ہوئے تھے، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے جمعے کی رات کارروائی کی۔ کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں فوج کو جنگی ہیلی کاپٹرز کی معاونت بھی حاصل رہی۔

سرکاری افسر کے مطابق، اس کارروائی کے دوران تین مشتبہ مقامات پر ڈرون کے ذریعے بمباری کی گئی جس میں شدت پسندوں کا جانی نقصان ہوا۔ ان کے بقول، ’اطلاعات کے مطابق، ایک مقام پر تین جبکہ دوسری جگہ سات شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں، تاہم اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی۔’

عسکری ذرائع کا موقف

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ان شدت پسندوں نے عید کے دوران بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ ان دہشت گردوں کے مقامی سہولت کار بھی ان کے ساتھ اس کارروائی میں ہلاک ہوئے ہونے کی اطلاعات ہیں۔’

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کاٹلنگ میں 12 دہشتگردوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مردان کے علاقے کاٹلنگ میں 12 دہشتگردوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ کاٹلنگ میں ہونے والی یہ کارروائی سیکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے میں ماضی میں بھی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیے گئے، جن میں محسن باقر اور عباس جیسے بڑے دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق، سیکیورٹی فورسز علاقے میں دہشتگردوں کے خلاف مزید آپریشن جاری رکھیں گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔

مذاکرات

حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران مقامی عمائدین اور حکام کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں ہلاک شدگان کے ورثا کو شہدا پیکج دینے، ایف آئی آر درج کرنے اور آئندہ ایسے حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عظمت اللہ وزیر کے مطابق، مذاکرات میں ڈی پی او ظہور بابر افریدی، رکن صوبائی اسمبلی زرشاد انجم، مفتی حماد یوسفزئی اور دیگر شخصیات شریک تھیں، جس کے بعد موٹروے کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔

خطے میں شدت پسندوں کی سرگرمیاں

یہ علاقہ ماضی میں بھی شدت پسندوں کا اہم مرکز رہا ہے، جہاں سوات اور شانگلہ سے مشتبہ افراد آ کر پناہ لیتے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی یہاں سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ سنہ 2009 سے شدت پسندوں کے مختلف گروہ اس علاقے میں رہ کر دیگر علاقوں میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں شدت پسندی کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور حکومت شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔


اس رپورٹ میں شامل کچھ مواد برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی اور فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے لیا گیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C