04/May/2025

روسی صدر پوٹن کا جوہری ہتھیار نہ استعمال کرنے کا عندیہ، کییف پر روسی ڈرون حملے جاری

👁️ 103 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روسی صدر پوٹن کا جوہری ہتھیار نہ استعمال کرنے کا عندیہ، کییف پر روسی ڈرون حملے جاری

روسی صدر پوٹن کا جوہری ہتھیار نہ استعمال کرنے کا عندیہ، کییف پر روسی ڈرون حملے جاری

ماسکو + کییف (ڈیلی اردو/اےایف پی/اے پی/روئٹرز) روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اتوار کے روز کہا ہے کہ یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ روسی سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو کے ایک حصے میں، جو بعد ازاں ٹیلیگرام پر شائع ہوا، پوٹن نے کہا کہ ماسکو کے پاس اتنی عسکری طاقت اور وسائل موجود ہیں کہ وہ یوکرین جنگ کو ایک “منطقی انجام” تک پہنچا سکے۔

پوٹن نے کہا، “ایسے (جوہری) ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی، اور میں امید کرتا ہوں کہ ان کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔” انہوں نے مزید کہا، “ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم سن 2022 میں شروع کی گئی کارروائی کو مکمل کر سکیں۔”

پوٹن کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب روس نے یوکرینی دارالحکومت کییف پر ڈرون حملے کیے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، جب کہ کئی رہائشی عمارتوں میں آگ لگ گئی۔ یوکرینی فضائی دفاعی فورسز نے بتایا کہ 165 میں سے 69 ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

جنگی اہداف اور میدان جنگ کی صورتحال

فروری 2022 میں پوٹن کے حکم پر یوکرین پر حملے کا آغاز ہوا، جسے ماسکو نے “خصوصی فوجی آپریشن” قرار دیا تھا۔ ابتدا میں روسی افواج نے تیزی سے پیش قدمی کی، تاہم یوکرینی افواج کی مزاحمت اور مغربی ممالک کی فوجی امداد نے روس کی جنگی حکمت عملی کو شدید چیلنج کیا۔

کییف پر ابتدائی حملے میں ناکامی کے بعد، روسی افواج کو دارالحکومت کے مضافات سے پسپائی اختیار کرنا پڑی، تاہم اب بھی روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں مشرقی اور جنوبی علاقے شامل ہیں۔

اگرچہ روس نے تاحال اپنے تمام عسکری اہداف حاصل نہیں کیے، لیکن حالیہ مہینوں میں پوٹن نے امن مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے حامی نظر آتے ہیں۔

جنگ بندی کی کوششیں اور خدشات

روسی صدر کے حالیہ بیان کے باوجود، جنگ بندی کے امکانات بدستور غیر یقینی ہیں۔ روس نے 8 سے 10 مئی کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، جو دوسری عالمی جنگ میں سوویت فتح کی یاد میں منائے جانے والے دنوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جواباً، کییف نے 30 دن کے لیے جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، تاہم تاحال کسی باقاعدہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

روسی حملے کے آغاز سے ہی جوہری جنگ کے خدشات مغرب میں تشویش کا باعث رہے ہیں۔ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز کے مطابق، سن 2022 کے آخر میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا امکان “حقیقی خطرہ” تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C