لاہور: سری لنکن شہری کا قتل، 6 افراد کو سزائے موت، 9 کو عمر قید کی سزا
👁️ 77 بار دیکھا گیا
لاہور: سری لنکن شہری کا قتل، 6 افراد کو سزائے موت، 9 کو عمر قید کی سزا
لاہور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کے کیس میں لاہور کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے چھ افراد کو سزائے موت، نو کو عمر قید اور 72 افراد کو دو دو سال قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
اس کیس میں 89 ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا جن میں سے 88 کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ ایک شخص کو پانچ سال قید جبکہ ایک ملزم کو بری کر دیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ ڈویژن کی جج نتاشہ نسیم سپرا کے روبرو اس اہم کیس کی سماعت 14 مارچ کو شروع ہوئی تھی۔ اس کیس کی سماعت کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ہو رہی تھی۔
یوں ایک ماہ چار روز تک کیس کی سماعت جاری رہی۔ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر کیس ٹرائل گوجرانوالہ میں خصوصی عدالت میں کرنے کی بجائے تمام ملزمان کو کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کردیا گیا تھا۔
سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو تین دسمبر کو وسطی پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ایک فیکٹری میں توہین مذہب کا الزام لگا کر بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا اور لاش کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اس واقعے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی اور پاکستان کے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے کر ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلوانے کا اعلان کیا تھا۔
اس مقدمے میں ملزمان کی گرفتاری اور چالان کی تیاری کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے اور لگ بھگ دو سو افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 89 ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا جبکہ باقی افراد کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
سیالکوٹ پولیس نے مقدمے کا چالان واقعے کے تین ماہ بعد چار مارچ کو عدالت میں پیش کیا تھا۔
اس بارے میں سیالکوٹ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ہجوم کے ہاتھوں قتل کا واقعہ تھا اور اس میں ملزمان کی نشاندہی کرنا عام قتل کیس سے بالکل الگ اور ایک مشکل کام تھا۔ ان کے مطابق قانونی شہادتیں اس قدر پیچیدہ تھیں کہ ان میں وقت لگنا ہی تھا۔
استغاثہ کے مطابق 55 ملزمان کے موبائل فون سے ملنے والی ویڈیوز کو چالان کا حصہ بنایا گیا جبکہ 46 چشم دید گواہوں کو چالان کا حصہ بنایا مجرمان پر 12 مارچ کو فرد جرم عائد ہوئی جس میں مجرمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔ مجرمان کے زیر دفعہ 342 کے تحت آخری بیانات قلمبند کیے گئے۔ عدالت میں استغاثہ کے تمام چشم دید گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے۔
تفتیشی افسر انسپکٹر طارق محمود نے بتایا کہ پراسیکیوشن نے ملزمان کے خلاف 2 چالان جمع کروائے، پہلے چالان مین 80 ملزمان کو نامزد کیا گیا جبکہ دوسرا چالان 9 نابالغ ملزمان کا پیش کیا گیا تھا۔ یوں 18 سال سے کم ملزمان کا ٹرائل دیگر ملزمان سے الگ ہوا۔
پاکستانی قوانین کے مطابق نابالغ ملزمان کو قانون کے تحت سزائے موت نہیں ہو سکتی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
مہمند میں پولیس گاڑی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، افسر سمیت 2 اہلکار ہلاک
03/July/2026 👁️ 42 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت پر فیصلہ کن اور فوری جواب دینگے، ایرانی فوج
02/July/2026 👁️ 29 بار دیکھا گیا
بنوں میں دہشت گردوں نے گرلز اسکول کو بم سے اڑا دیا
02/July/2026 👁️ 40 بار دیکھا گیا
روس کا یوکرین پر بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ، 20 افراد ہلاک
02/July/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
نوشہرہ: اکوڑہ خٹک میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، خودکش جیکٹ برآمد
02/July/2026 👁️ 40 بار دیکھا گیا
شام: دمشق میں دھماکا، 7 افراد ہلاک اور 16 زخمی
02/July/2026 👁️ 39 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8880 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4671 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3500 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2497 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2254 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1945 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C