15/December/2023

ٹانک میں پولیس لائنز پر دہشت گردوں کا حملہ، افسر سمیت 3 اہلکار ہلاک

👁️ 38 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹانک میں پولیس لائنز پر دہشت گردوں کا حملہ، افسر سمیت 3 اہلکار ہلاک

ٹانک میں پولیس لائنز پر دہشت گردوں کا حملہ، افسر سمیت 3 اہلکار ہلاک

پشاور (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشت گردوں نے جمعے کی علی الصباح پولیس لائنز پر حملہ کیا ہے اور اب تک عمارت کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

دہشت گرد جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب لگ بھگ تین بجے ضلع ٹانک میں پولیس لائنز کے اندر داخل ہوئے جس کے بعد کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) ٹانک افتخار شاہ کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں پولیس افسر سمیت تین اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے جب کہ جوابی کارروائی میں پانچ حملہ آور مارے گئے ہیں۔

البتہ وائس آف امریکہ کے نمائندے کے مطابق مقامی صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پولیس لائنز کے اندر سے اب بھی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جب کہ کمانڈوز کی بڑی تعداد موقع پر موجود ہے۔

حکام نے دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ البتہ بتایا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس انسپکٹر شامل ہے۔

ٹانک پولیس لائن پر حملے کے بعد حفاظتی تدابیر کے تحت ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

دہشت گردوں کی خیبر میں بھی کارروائی

دہشت گردوں نے دوسری کارروائی ضلع خیبر کے علاقے باڑہ نالہ ملک دین خیل میں جہاں انہوں نے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹبلری (ایف سی) کی مشترکہ چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے ہینڈ گرنیڈ اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جب کہ دو طرفہ فائرنگ کے تبادلے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک جب کہ چھ اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے۔

دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران زخمی ہونے والے اہلکاروں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گردوں نے منگل کو ہی ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں سیکیورٹی فورسز کے بیس کیمپ پر حملہ کیا تھا جس میں 23 اہلکار ہلاک ہوئے تھے جب کہ حملے کی ذمے داری تحریکِ جہاد پاکستان (ٹی جی پی) نامی ایک غیر معروف تنظیم نے قبول کی تھی۔

درابن حملے کے بعد فوج نے مختلف کارروائیوں میں 27 دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے افغانستان کی طالبان حکومت سے سخت احتجاج کیا تھا۔

پاکستان کے ردِ عمل پر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ڈی آئی خان میں ہونے والے حملے کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ حملہ افغان سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہوا ہے البتہ طالبان کے ساتھ اس حملے کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کیا گیا تو وہ اس کی تحقیقات کریں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C