پاکستان سعودی عرب کو جے ایف 17 لڑاکا طیارے فراہم کریگا
👁️ 358 بار دیکھا گیا
پاکستان سعودی عرب کو جے ایف 17 لڑاکا طیارے فراہم کریگا
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ روئٹرز) خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو پاکستانی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان سعودی عرب کے تقریباً دو بلین ڈالر کے قرضوں کو جے ایف سترہ جنگی طیاروں کے سودے میں تبدیل کرنے کی بات چیت جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد ہی یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ دونوں کے درمیان فوجی تعاون مزید گہرا ہو رہا ہے۔
جے ایف 17 جنگی طیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق یہ تازہ مذاکرات اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ممالک دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے وعدوں اور وابستگی پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر اپنی سکیورٹی شراکت داریوں کو نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ اسرائیل کی جانب سے دوحہ میں اُن اہداف پر حملوں کے بعد طے پایا جنہیں اسرائیل نے حماس کے ٹھکانے قرار دیا تھا۔ دوحہ پر اسرائیلی حملوں نے خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔
پاکستانی ذرائع میں سے ایک نے روئٹرز کو یہ بتایا کہ تازہ بات چیت جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کی فراہمی تک محدود تھی۔ یہ ہلکا جنگی طیارہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
ایک دوسرے ذریعے کے مطابق، زیرِ غور مختلف آپشنز میں جے ایف-17 طیارے سب سے نمایاں اور ترجیحی انتخاب تھے۔
پہلے سورس کے مطابق مجموعی معاہدے کی مالیت چار ارب ڈالر ہے جس میں دو بلین قرض کی تبدیلی کے علاوہ دو ارب ڈالر کا اضافی فوجی ساز و سامان بھی شامل ہے۔
فوجی معاملات سے باخبر ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات چیت کی، کیونکہ انہیں ابھی اس معاہدے پر بات کرنے کی باضابطہ اجازت حاصل نہیں۔
سعودی عرب کے ایک میڈیا ادارے 'سعودی نیوز 50' نے پیر کے روز سوشل میڈیا ایکس پر یہ اطلاع بھی دی تھی کہ پاکستانی فضائیہ کے سربراہِ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، " دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون" سمیت دوطرفہ مذاکرات کے لیے سعودی عرب میں موجود تھے۔
میدانِ جنگ میں آزمودہ
ریٹائرڈ ایئر مارشل اور دفاعی تجزیہ کار امیر مسعود کا کہنا ہے کہ پاکستان چھ ممالک کے ساتھ دفاعی ساز و سامان کی فراہمی کے حوالے سے یا تو بات چیت کر رہا ہے یا معاہدے طے کر چکا ہے۔ اس میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور ان کے لیے الیکٹرانک و اسلحہ جاتی نظام شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے تاہم وہ ایسے مذاکرات کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکے۔
امیر مسعود نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ جے ایف-17 کی عالمی منڈی میں کشش میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ "یہ طیارہ آزمودہ ہے اور عملی جنگ میں استعمال ہو چکا ہے"، جبکہ یہ لاگت کے اعتبار سے بھی کافی مؤثر ہے۔
یہ طیارہ گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والے تنازع کے دوران استعمال کیا گیا جو کئی دہائیوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان شدید ترین جھڑپیں تھیں۔
فوج، وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع نے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے سرکاری میڈیا دفتر نے بھی ابھی تک کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
ستمبر میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ریاض اور اسلام آباد نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی دہائیوں پر محیط سکیورٹی شراکت داری کو نمایاں طور پر مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرتا آ رہا ہے، جس میں تربیت اور مشاورتی تعیناتیاں بھی شامل ہیں، جبکہ سعودی عرب نے بارہا معاشی دباؤ کے ادوار میں پاکستان کی مالی مدد کی ہے۔
2018 میں ریاض نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا جس میں اسٹیٹ بینک میں تین ارب ڈالر کی جمع رقم اور تین ارب ڈالر مالیت کی تیل کی فراہمی مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر شامل تھی۔
اسلحہ فروخت کرنے کی کوششیں
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے دفاعی شعبے میں بیرونی روابط کو تیز کیا ہے کیونکہ وہ اسلحہ کی برآمدات بڑھانے اور اپنی مقامی دفاعی صنعت سے آمدن حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
گزشتہ ماہ اسلام آباد نے لیبیا کی مشرقی حکومت سے وابستہ لیبیئن نیشنل آرمی کے ساتھ چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا اسلحہ معاہدہ کیا، جو ملک کی تاریخ کے بڑے دفاعی سودوں میں سے ایک ہے۔ حکام کے مطابق اس معاہدے میں جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی جے ایف-17 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بات چیت کی ہے جس کے ذریعے وہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی اپنی دفاعی برآمدات کے دائرہ کار کو وسعت دینا چاہتا ہے۔
منگل کے روز وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ملکی اسلحہ جاتی صنعت کی کامیابی پاکستان کی معاشی صورتحال کو یکسر بدل سکتی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہمارے طیارے آزمودہ ہیں، اور ہمیں اتنے زیادہ آرڈرز مل رہے ہیں کہ پاکستان کو چھ ماہ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ضرورت نہ رہے گی۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور
20/October/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کے خاتمے پر اصرار، ٹرمپ سے متعدد بار گفتگو کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
عراق: کرکوک میں داعش کے حملوں میں اضافہ، سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کردیا
20/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان
20/October/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی ایم کیو 9 ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
نوشکی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی، 5 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 3 زخمی
20/October/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15624 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11919 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9274 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7532 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5486 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C