10/January/2024

کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 3 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد ہلاک

👁️ 40 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 3 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد ہلاک

کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، 3 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد ہلاک

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں انڈس ہائی وی پر پولیس چوکی پر نامعلوم افراد نے دستی بموں اور جدید اسلحے سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً دو بجے ضلع کوہاٹ میں لاچی کے مقام پر ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا ہے ۔

ضلعی پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد پانچ سے چھ تک بتائی گئی ہے اور حملہ آوروں نے دستی بم پھینکے ہیں اور جدید اسلحے سے فائرنگ کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس مقام سے ایم 4 ایس اور ایم 16 ایس کے استعمال ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ حملہ آوروں نے پہلے گرینیڈ پھینکے اور پھر فائرنگ کی۔

اس حملے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آور ٹول پلازہ سے رقم بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

‏دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے کوہاٹ حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

خیبر پختونخوا میں پولیس پر تین دنوں میں یہ چوتھا حملہ ہوا ہے۔ منگل کو ضلع بنوں میں نامعلوم افراد نے انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے موقع پر موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس سے ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

دو روز پہلے پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں انسداد پولیو مہم کے لیے جانے والے پولیس اہلکاروں کے ٹرک پر آئی ای ڈی سے حملہ کیا گیا تھا۔ ٹرک کے قریب دھماکے سے پانچ اہلکار ہلاک اور 22 زخمی ہو گئے تھے۔ گزشتہ روز دو مزید زخمی بھی دم توڑ گئے تھے۔

ان اہلکاروں کے جنازہ کے وقت جب اعلیٰ حکام موجود تھے اس وقت سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک اہلکار نے کہا تھا کہ کب تک پولیس اہلکاروں کے یہ جنازے اٹھاتے رہیں گے ان حملوں کی روک تھام کے لیے اعلیٰ حکام کوئی اقدامات نہیں کر رہے آئے روز وہ لاشیں اٹھا رہے ہیں۔

انھوں نے ایک گرینڈ جرگہ بلانے کا مطالبہ کیا اور کہاں کہ اس بارے میں اعلی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہحملہ آوروں کو پہلے سے تمام معلومات حاصل تھیں کیونکہ مسلح افراد نے پہلے ڈیوٹی پر تعینات ایک اہلکار کو ماتھے پر فائر کیا ہے اس کے بعد وہ چوکی کے اندر داخل ہوئے ہیں جہاں ایک شہری موجود تھا اسے بھی پولیس اہلکار سمجھ کر مارا گیا ہے اور اس کے بعد اس کمرے میں دستی بم پھینکے ہیں جہاں پولیس اہلکار موجود تھے۔

اس چوکی میں ہائی وے کے اہلکار جس کمرے میں موجود تھے وہ محفوظ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آور ٹول پلازہ سے فرار ہوتے وقت اپنے ساتھ 80000 روپے سے ایک لاکھ روپے تک کی نقدی بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

باجوڑ میں منگل کو پولیس بس پر حملے کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی۔ تھی

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C