یورپ کیلئے خطرناک ترین راستہ اختیار کرنیوالے 2 ہزار سے زائد تارکین وطن لاپتہ
👁️ 176 بار دیکھا گیا
یورپ کیلئے خطرناک ترین راستہ اختیار کرنیوالے 2 ہزار سے زائد تارکین وطن لاپتہ
روم (ڈیلی اردو) وسطی بحیرہ روم سے یورپ جانے کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک راستہ اختیار کرنے والے افراد کی تعداد کئی زیادہ بڑھ چکی ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق یورپ کی سرحدی اور کوسٹ گارڈ ایجنسی نے کہا کہ جنوری اور جولائی کے درمیان غیرقانونی طور پر یورپ جانے والوں کی تعداد 13 فیصد سے بڑھ کر 176,100 ہوگئی ہے، جوکہ 2016 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ یورپ جانے کے لئے وسطی بحیرہ روم کا راستے استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں 115 فیصد ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں اب تک 2 ہزار 90 سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم میں لاپتہ ہو چکے ہیں۔
فرنٹیکس نے کہا کہ لیبیا یا تیونس سے شمال کی جانب یونان یا اٹلی تک جانے والے راستے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ اکثر لوگ غیر محفوظ اور ایک کشتی میں ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہو کر جاتے ہیں، 2023 کے پہلے سات ماہ میں 89,000 سے زیادہ افراد نے کامیابی سے اس طریقے کو استعمال کیا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ گزشتہ ہفتے اطالوی جزیرے لیمپیڈوسا کے قریب ایک کشتی ڈوب جانے سے41 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ زندہ بچ جانے والے چار افراد نے بتایا کہ زنگ آلود جہاز، جس میں تین بچے بھی شامل تھے، چھ دن پہلے تیونس کی بندرگاہ سیفکس سے روانہ ہوا تھا۔
فرنٹیکس کا کہنا ہے کہ وسطی بحیرہ روم کے راستے پر ہجرت کرنے والوں کا دباؤ بڑھنے کا امکان نظر آرہا ہے۔ اسمگلرز لیبیا اور تیونس سے روانہ ہونے والے افراد کو کم قیمت کا لالچ بھی دے رہے ہیں۔
ایجنسی نے کہا کہ یورپ میں ہجرت کرنے والے جو دوسرے راستوں کے ذریعے آتے تھے ان کی آمد میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے، جس میں مغربی بحیرہ روم کے راستے (مراکش سے اسپین تک) 2 فیصد، ترکی سے یونان تک مشرقی بحیرہ روم کے راستے پر 29 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔
یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد 2015-16 کافی کم ہے، یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اسی وجہ سے یورپ میں برطانیہ سمیت پورے براعظم میں امیگریشن مخالف جذبات اور سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
برطانوی حکومت نے امیگریشن پالیسی کے ذریعے غیر قانونی طور پر آنے والی کشتیوں کو روکنے کا عہد کیا ہے، جس کا مقصد دیگر غیر قانونی راستوں سے آنے والے لوگوں کے سیاسی پناہ کے دعوؤں کو غیر قانونی قرار دینا اور انہیں روانڈا جیسے تیسرے ممالک میں منتقل کرنا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 میں 45 ہزار سے زیادہ افراد چھوٹی کشتیوں پر برطانیہ پہنچے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہے۔ بریگزٹ کے بعد سے برطانیہ اب کسی بھی پابندی یورپی یونین فریم ورک کا حصہ نہیں ہے، جو پناہ کے متلاشیوں کے لیے ذمہ داری کا تعین کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
خیبرپختونخوا میں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر
29/October/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا ایرانی دعویٰ، ایک اور جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع
29/October/2026 👁️ 86 بار دیکھا گیا
فلسطینی صدر محمود عباس کو اسرائیل کی نئی حکومت سے مذاکرات کی امید
29/October/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
بلوچستان: خاران میں 5 ڈرون حملے ناکام، سکیورٹی فورسز نے تمام ڈرون مار گرائے
29/October/2026 👁️ 73 بار دیکھا گیا
کرم : سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، ٹی ٹی پی کا دہشتگرد ہلاک
29/October/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
پشاور : سکیورٹی فورسز اور سی ٹی ڈی کا مشترکہ آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک، اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد
29/October/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26410 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15647 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11951 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9311 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7563 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5535 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C