19/October/2026

آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

👁️ 74 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

آبنائے ہرمز میں ایک اور آئل ٹینکر میں دھماکا اور آگ، ایران کا سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ

تہران(ڈیلی اردو) آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور تیل بردار جہاز میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرایا، تاہم جہاز کی شناخت، عملے کی صورت حال اور نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں پیش آیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جہاز ایک ایسے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے ایرانی حکام نے غیر مجاز قرار دیا ہے، جبکہ اس کے مقام اور سمت کی نشاندہی کرنے والے نظام بھی بند تھے۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ دھماکے کے نتیجے میں جہاز کے انجن والے حصے میں آگ لگ گئی۔

یہ واقعہ گزشتہ دنوں پیش آنے والے ایسے ہی واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران نے 18 اکتوبر کو بھی دو تیل بردار جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ لگنے کا دعویٰ کیا تھا۔ الجزیرہ اور فرانس کے خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی حکام نے ان جہازوں میں سے ہر ایک پر تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل موجود ہونے کی اطلاع دی، تاہم ابتدائی رپورٹس میں جہازوں کے نام اور کارگو کی اصل منزل کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

دوسری جانب عالمی میڈیا کی رپورٹس میں آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ برطانوی بحری سلامتی ادارے یو کے ایم ٹی او کے مطابق 16 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران کم از کم 12 بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ادارے نے خبردار کیا کہ متعدد واقعات کی اطلاع نہ ملنے کے باعث اصل تعداد کی مکمل تصدیق مشکل ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ دونوں اس اہم آبی گزرگاہ پر کنٹرول اور بحری آمدورفت کے قواعد کے حوالے سے ایک دوسرے کے دعووں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جہازوں کو اس کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق گزرنا چاہیے، جبکہ امریکی حکام بعض واقعات میں ایرانی دعووں سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاز بارودی سرنگوں کے بجائے دوسرے ہتھیاروں سے نشانہ بنائے گئے۔ اس لیے ہر واقعے کی وجہ اور ذمہ داری کی الگ الگ تصدیق ضروری ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے خطرات نے تیل بردار جہازوں کی نقل و حمل، بیمہ اور مال برداری کے اخراجات پر دباؤ بڑھایا ہے۔ جہاز رانی کی کمپنیوں کو ممکنہ حملوں اور راستوں میں رکاوٹوں کے باعث اپنے سفری منصوبوں پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔ جنگ سے پہلے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس گزرگاہ سے منتقل ہوتا تھا۔ یہاں بحری آمدورفت میں طویل رکاوٹ پیدا ہونے سے تیل کی فراہمی، عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 18 اکتوبر کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے سے متعلق تہران کی تجویز دوبارہ پیش کرتے ہوئے واشنگٹن سے اسے قبول کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں اور تازہ واقعے کے بعد اس اہم سمندری راستے کی سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C