آرمی پبلک اسکول حملہ کیس: عدالت نے دو اہم ملزمان بری کر دیے
👁️ 245 بار دیکھا گیا
آرمی پبلک اسکول حملہ کیس: عدالت نے دو اہم ملزمان بری کر دیے
پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) انسداد دہشت گردی عدالت پشاور نے آرمی پبلک اسکول حملہ کیس میں نامزد ملزمان کی ضمانت درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دو ملزمان کو بری کر دیا۔
عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان جان ولی عرف شینا اور شکیل کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے کیس میں نامزد 16 ملزمان کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
پراسیکیوشن کے مطابق اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان میں منگل باغ، حاجی گل بہادر، کمانڈر عمر خالد خراسانی، کمانڈر حافظ سعید، کمانڈر اورنگزیب، کمانڈر فضل اللہ، حافظ دولت، قاری شکیل، قاری سیف اللہ، اسلام فاروقی، مولوی فقیر، اجنبی، انگارا اپاجی، ابوذر اور سرور شاہ سمیت دیگر شامل ہیں۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا، جس میں 140 سے زائد بچے ہلاک جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔
عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے دو ملزمان کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کیا، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانونی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آرمی پبلک اسکول حملہ پاکستان کی تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ پشاور کے وارسک روڈ پر قائم آرمی پبلک اسکول پر 16 دسمبر 2014 کو مسلح شدت پسندوں نے حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 147 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آور گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا، جن میں سے نو مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستانی حکام نے اس واقعے میں ملوث متعدد افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلا کر سزائیں بھی سنائیں۔
تاہم ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کا مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاؤنی میں قائم، فوج کے زیرِ انتظام اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ کسی جنگی محاذ پر نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے اسکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے فیس ادا کرتے تھے، اس کے باوجود یہ سانحہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت یا لاپرواہی کا نتیجہ تھا؟
متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں واضح طور پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن عناصر کی غفلت یا کوتاہی کے باعث یہ حملہ ممکن ہوا، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 159 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 211 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 146 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 217 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 229 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8967 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4821 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3578 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3563 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2568 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2321 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C