02/October/2026

پی ٹی آئی ادوار میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے 65 کروڑ 51 لاکھ سے زائد کے فنڈز، 100 سے زائد دہشتگردوں کی رہائی

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پی ٹی آئی ادوار میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے 65 کروڑ 51 لاکھ سے زائد کے فنڈز، 100 سے زائد دہشتگردوں کی رہائی

پی ٹی آئی ادوار میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے 65 کروڑ 51 لاکھ سے زائد کے فنڈز، 100 سے زائد دہشتگردوں کی رہائی

اسلام آباد(ڈیلی اردو) پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں کے ادوار میں خیبر پختونخوا کے نوشہرہ میں قائم دارالعلوم حقانیہ کے لیے مجموعی طور پر 65 کروڑ 51 لاکھ 60 ہزار روپے کے مالی فیصلوں کا ریکارڈ سامنے آیا ہے، جبکہ اسی عرصے میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات، جنگ بندی اور بعض قیدیوں کی رہائی سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث رہے۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق جون 2016 میں خیبر پختونخوا حکومت نے دارالعلوم حقانیہ کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔ بعد میں یہ رقم مدرسے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے جاری کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس وقت عمران خان نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اسے مدارس کو قومی دھارے میں لانے اور وہاں جدید تعلیمی اصلاحات متعارف کرانے کی کوشش قرار دیا تھا۔

2016 میں کیے گئے فیصلے کے تحت مدرسے میں مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی، مختلف تعلیمی شعبوں کی ترقی اور ادارے کو جدید تعلیمی نظام سے ہم آہنگ کرنے کے منصوبے شامل تھے۔

بعد ازاں فروری 2018 میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے مزید 27 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کرنے کی کارروائی کی گئی۔ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق اس رقم سے متعلق سمری اور منظوری کا عمل جاری تھا، اس لیے اسے مکمل طور پر جاری شدہ رقم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اپریل 2022 میں، پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت کے دور میں، دارالعلوم حقانیہ کے لیے مزید 80.16 ملین روپے، یعنی 8 کروڑ 1 لاکھ 60 ہزار روپے جاری کیے گئے۔ یہ رقم نئے تعلیمی بلاکس کی تعمیر سے متعلق منصوبے کے لیے فراہم کی گئی تھی۔

یوں 2016 کی 30 کروڑ روپے کی رقم، 2018 میں زیر کارروائی 27 کروڑ 50 لاکھ روپے اور 2022 میں جاری کیے گئے 8 کروڑ 1 لاکھ 60 ہزار روپے کو شامل کیا جائے تو مجموعی رقم 65 کروڑ 51 لاکھ 60 ہزار روپے بنتی ہے۔ تاہم ان تمام رقوم کو یکساں طور پر ’’جاری شدہ فنڈنگ‘‘ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ 2018 کی رقم کے بارے میں ریکارڈ اسے کارروائی یا منظوری کے مرحلے سے جوڑتا ہے۔

رپورٹ میں پی ٹی آئی دور کی انسدادِ دہشتگردی پالیسی کے ایک الگ معاملے کے طور پر حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان 2021 میں ہونے والے مذاکرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ نومبر 2021 میں افغان طالبان کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسی دوران بعض رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے قیدیوں کی رہائی کا دعویٰ سامنے آیا۔ بعض ذرائع نے 100 تک یا اس سے زائد قیدیوں کی رہائی کی اطلاعات دیں، تاہم اس معاملے پر اس وقت مختلف سرکاری اور سکیورٹی ذرائع کے بیانات میں اختلاف بھی موجود تھا۔ اس لیے قیدیوں کی تعداد کو قطعی اور متفقہ اعداد و شمار کے طور پر بیان کرنا محتاط طرزِ صحافت نہیں ہوگا۔

بعد ازاں ٹی ٹی پی نے دسمبر 2021 میں جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر طے شدہ شرائط پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ اس کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات اور ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شدت اختیار کرتا گیا۔

جائزے میں دارالعلوم حقانیہ کی فنڈنگ اور ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کو ایک ہی نوعیت کے فیصلے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے انہیں پی ٹی آئی دور کی دو الگ پالیسی معاملات قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حقانیہ کی فنڈنگ کا مکمل جائزہ لینے کے لیے سرکاری منظوریوں، اخراجات کی دستاویزات، ترقیاتی منصوبوں اور ان تعلیمی اصلاحات کے ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے جن کے لیے یہ رقوم مختص کی گئی تھیں۔ اسی طرح ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے معاملے میں قیدیوں کی رہائی، عائد شرائط، نگرانی اور فیصلوں کی منظوری سے متعلق مکمل سرکاری ریکارڈ کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی ہے۔

رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات یا کسی بھی قسم کی رعایت کی صورت میں واضح شرائط، مؤثر نگرانی اور جواب دہی کا قابلِ تصدیق نظام موجود ہونا ضروری ہے، تاکہ ایسے فیصلوں کے نتائج اور ان پر عمل درآمد کا مکمل ریکارڈ برقرار رہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C