اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا بل منظور
👁️ 226 بار دیکھا گیا
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا بل منظور
یروشلم (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے ایک متنازع بل کی ابتدائی مرحلے میں منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اُن فلسطینی مزاحمت کاروں کو سزائے موت دی جا سکے گی، جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے مرتکب پائے جائیں گے۔ یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب بعض اسرائیلی سیاست دان سمجھتے ہیں کہ اس قانون سے قیدیوں کی رہائی کے آئندہ معاہدوں کو روکا جا سکے گا۔
پیر کی شب کنیسٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں 120 ارکان میں سے 39 نے بل کے حق میں جبکہ 16 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ یہ اس بل کی منظوری کا ابتدائی مرحلہ ہے، اور بل کے قانون بننے تک مزید تین مراحل طے کرنا ہوں گے۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر نے تمام سیاسی جماعتوں سے بل کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ ووٹنگ کے بعد اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا، ’’اسی طرح دہشت گردی سے نمٹا جاتا ہے، اسی طرح ہم دفاع کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ جب یہ قانون منظور ہو جائے گا، تو دہشت گرد صرف جہنم میں ہی رہا ہوں گے۔‘‘
کئی بڑی جماعتوں نے پیر کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس بل کی حمایت نہیں کریں گے۔ تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے اس بل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’سیاسی، قانونی اور انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا جبکہ حماس نے بھی اس اسرائیلی اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اسرائیل نے قتل کے مقدمات میں سزائے موت کا قانون 1954 میں ختم کر دیا تھا، اور اب تک صرف نازی ہولوکاسٹ کے ایک منصوبہ ساز اڈولف آئشمان کو 1962 میں سویلین ٹرائل کے بعد پھانسی دی گئی تھی۔
بن گویر کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا نفاذ اُن افراد کے لیے عبرت کا باعث بنے گا، جو اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے جیسی کارروائی کرنے کا سوچ رہے ہوں۔ اس حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 سے زائد افراد، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے، مارے گئے تھے اور 251 کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 69 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، مارے گئے۔ گزشتہ ماہ ایک نازک جنگ بندی طے پائی تھی، جس کے تحت 20 زندہ یرغمالیوں اور متعدد دیگر کی لاشوں کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدی رہا کیے گئے۔
قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے یہ معاہدے اسرائیل میں تنازعے کا باعث رہے ہیں۔ بن گویر کی جماعت ’’یہودی طاقت‘‘ کے رکن تزویقا فوگل نے کہا، ’’اگر سزائے موت نافذ کر دی گئی، تو پھر کسی قیدی کے تبادلے کی نوبت نہیں آئے گی۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عراق میں ایرانی مسلح گروہوں کا ہتھیار ڈالنے کا اعلان
14/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
اسرائیل کے لبنان پر حملے جاری، 24 علاقوں کیلئے انخلا کا حکم
14/June/2026 👁️ 94 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اتوار کو دستخط ممکن نہیں، ایران
14/June/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
ایران کے ساتھ معاہدہ اتوار کو دستخط ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ
14/June/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
دفاعی بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، تین برس میں 878 ارب کا اضافہ
14/June/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
بھارت نے لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کو نیا چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کر دیا
14/June/2026 👁️ 102 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8817 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4530 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3258 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2437 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2081 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1885 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C