12/November/2025

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا بل منظور

👁️ 226 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا بل منظور

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا بل منظور

یروشلم (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے ایک متنازع بل کی ابتدائی مرحلے میں منظوری دے دی ہے، جس کے تحت اُن فلسطینی مزاحمت کاروں کو سزائے موت دی جا سکے گی، جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے مرتکب پائے جائیں گے۔ یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب بعض اسرائیلی سیاست دان سمجھتے ہیں کہ اس قانون سے قیدیوں کی رہائی کے آئندہ معاہدوں کو روکا جا سکے گا۔

 

پیر کی شب کنیسٹ میں ہونے والی ووٹنگ میں 120 ارکان میں سے 39 نے بل کے حق میں جبکہ 16 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ یہ اس بل کی منظوری کا ابتدائی مرحلہ ہے، اور بل کے قانون بننے تک مزید تین مراحل طے کرنا ہوں گے۔

 

اسرائیل کے قومی سلامتی کے انتہا پسند وزیر ایتمار بن گویر نے تمام سیاسی جماعتوں سے بل کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ ووٹنگ کے بعد اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا، ’’اسی طرح دہشت گردی سے نمٹا جاتا ہے، اسی طرح ہم دفاع کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ جب یہ قانون منظور ہو جائے گا، تو دہشت گرد صرف جہنم میں ہی رہا ہوں گے۔‘‘

 

کئی بڑی جماعتوں نے پیر کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس بل کی حمایت نہیں کریں گے۔ تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے اس بل کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’سیاسی، قانونی اور انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا جبکہ حماس نے بھی اس اسرائیلی اقدام پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

 

اسرائیل نے قتل کے مقدمات میں سزائے موت کا قانون 1954 میں ختم کر دیا تھا، اور اب تک صرف نازی ہولوکاسٹ کے ایک منصوبہ ساز اڈولف آئشمان کو 1962 میں سویلین ٹرائل کے بعد پھانسی دی گئی تھی۔

 

بن گویر کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا نفاذ اُن افراد کے لیے عبرت کا باعث بنے گا، جو اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے جیسی کارروائی کرنے کا سوچ رہے ہوں۔ اس حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 سے زائد افراد، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے، مارے گئے تھے اور 251 کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا تھا۔

 

اس کے بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق 69 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی، مارے گئے۔ گزشتہ ماہ ایک نازک جنگ بندی طے پائی تھی، جس کے تحت 20 زندہ یرغمالیوں اور متعدد دیگر کی لاشوں کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدی رہا کیے گئے۔

 

قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے یہ معاہدے اسرائیل میں تنازعے کا باعث رہے ہیں۔ بن گویر کی جماعت ’’یہودی طاقت‘‘ کے رکن تزویقا فوگل نے کہا، ’’اگر سزائے موت نافذ کر دی گئی، تو پھر کسی قیدی کے تبادلے کی نوبت نہیں آئے گی۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C