28/September/2026

افغانستان میں شیعہ برادری کے مذہبی و سماجی مراکز پر پابندیاں، طالبان کی پالیسی پر تشویش

👁️ 61 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان میں شیعہ برادری کے مذہبی و سماجی مراکز پر پابندیاں، طالبان کی پالیسی پر تشویش

افغانستان میں شیعہ برادری کے مذہبی و سماجی مراکز پر پابندیاں، طالبان کی پالیسی پر تشویش

کابل(ڈیلی اردو) افغانستان میں شیعہ برادری سے وابستہ مذہبی، ثقافتی، تعلیمی اور طبی مراکز کی مسلسل بندش نے ملک میں مذہبی آزادی اور شہری حقوق سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ افغانستان کے ذرائع کے مطابق کابل میں متعدد مراکز کی بندش کے ساتھ ساتھ شیعہ برادری کے بڑے مذہبی و سماجی اداروں پر پہلے سے عائد پابندیوں نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کا دائرہ محدود کیا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی کابل میں تبیان مرکز اور فاطمہ الزہرا کلینک سمیت بعض اداروں کو بند کیے جانے کے علاوہ خاتم النبیین اور خاتم الانبیاء جیسے بڑے مراکز سے متعلق بھی ماضی میں مختلف نوعیت کی پابندیاں اور دباؤ سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ ادارے طویل عرصے سے شیعہ برادری کے لیے مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، ثقافتی سرگرمیوں اور سماجی خدمات کا ذریعہ رہے ہیں۔

افغان طالبان کی جانب سے ان اقدامات کی وجوہات کے حوالے سے اب تک کوئی جامع اور واضح قانونی وضاحت سامنے نہ آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض معاملات میں زمین کی ملکیت سے متعلق اعتراضات جبکہ کچھ دیگر کیسز میں حکومتی پالیسیوں سے متصادم سرگرمیوں کے الزامات کا حوالہ دیا گیا، تاہم متاثرہ اداروں اور عوام کے لیے متعلقہ قانونی دستاویزات یا عدالتی کارروائی کی مکمل تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی مذہبی، تعلیمی یا ثقافتی ادارے کو بند کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار، واضح قانونی بنیاد اور متاثرہ فریق کو اعتراض یا اپیل کا موقع فراہم کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات میں وضاحت کی کمی سے یہ خدشات پیدا ہوسکتے ہیں کہ کارروائی صرف انتظامی نوعیت کی نہیں بلکہ کسی مخصوص مذہبی برادری کی سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے حوالے سے رپورٹ میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ مذہبی اور ثقافتی ادارے صرف عبادت یا مذہبی تعلیم تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ معاشرے میں سماجی روابط، تعلیم، صحت، باہمی تعاون اور مختلف طبقات کے درمیان رابطے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے اداروں کی کمزوری سے متاثرہ برادری میں عدم اعتماد اور سماجی تنہائی کا احساس بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

افغانستان کی شیعہ برادری ملک کے تاریخی، ثقافتی اور سماجی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس برادری سے وابستہ اداروں کی مسلسل بندش یا سرگرمیوں میں کمی سے مذہبی تنوع، شہری حقوق اور سماجی ہم آہنگی کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں موجودہ صورتحال کو ایک ایسی پالیسی کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کے تحت شیعہ برادری کی مذہبی اور سماجی موجودگی بتدریج محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذہبی اور سماجی اداروں سے متعلق فیصلوں میں قانونی شفافیت اختیار کی جائے، متعلقہ فریقوں کو وضاحت اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے اور افغانستان میں موجود مختلف مذہبی و سماجی طبقات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C