24/September/2026

افغانستان میں 10 مقامات پر پاکستانی ڈرون و فضائی حملے، قندھار میں بھی دھماکوں کی آواز

👁️ 62 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان میں 10 مقامات پر پاکستانی ڈرون و فضائی حملے، قندھار میں بھی دھماکوں کی آواز

افغانستان میں 10 مقامات پر پاکستانی ڈرون و فضائی حملے، قندھار میں بھی دھماکوں کی آواز

اسلام آباد/کابل(ڈیلی اردو) پاکستان نے افغانستان سے آنے والے ڈرون حملوں کی کوشش کے جواب میں افغان سرزمین پر 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون کارروائیوں میں نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسی دوران افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں بھی ایک فضائی حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ تاہم قندھار کے تازہ حملے میں جانی نقصان کی کوئی مصدقہ تفصیل تاحال سامنے نہیں آسکی۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے 24 ستمبر کو بیان میں کہا کہ پاکستان نے یہ کارروائی اپنے دفاع کے حق کے تحت کی۔ ان کے مطابق 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب بھیجے گئے ڈرونز نے دراندازی کی کوشش کی، جنہیں پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی مار گرایا۔

پاکستانی حکام کے مطابق اس کے بعد افغانستان میں ان 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرونز کو ذخیرہ اور لانچ کیا جارہا تھا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ کارروائی مخصوص فوجی اہداف تک محدود، درست اور متناسب تھی۔

پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق 23 ستمبر کو افغانستان کی جانب سے آنے والے 8 ڈرونز بھی مار گرائے گئے تھے۔ ان میں سے چار کو طورخم سے ملحقہ علاقوں جبکہ چار کوہاٹ کے قریب سرحدی پہاڑی علاقوں میں گرائے جانے کی اطلاع دی گئی۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی مسلح کارروائیوں اور ڈرون حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسلام آباد نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور وہاں موجود مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

دوسری جانب 24 ستمبر کو افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں بھی ایک فضائی حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قندھار کے ایک رہائشی نے بتایا کہ اس نے پہلے جنگی طیارے کی آواز سنی، جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا اور شہر کے وسط میں آگ کے شعلے دکھائی دیے۔ قندھار طالبان کے اعلیٰ ترین رہنما کی رہائش گاہ ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق افغان حکام اور فوج نے فوری طور پر قندھار کے واقعے پر باضابطہ مؤقف نہیں دیا، جبکہ حملے میں ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد بھی فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی۔ اس لیے قندھار حملے کے جانی نقصان سے متعلق غیرمصدقہ اطلاعات کو حتمی اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ 21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں تین اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے 28 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسری جانب افغان حکام نے ان حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

اقوام متحدہ کے افغانستان مشن UNAMA نے 21 ستمبر کے کنڑ حملے میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی سمیت کم از کم تین شہریوں کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔ افغان مقامی میڈیا پژواک افغان نیوز نے بھی UNAMA کی تصدیق رپورٹ کی۔

افغان نشریاتی ادارے امو ٹی وی کے مطابق گزشتہ تقریباً ایک سال کے دوران افغانستان میں پاکستانی فضائی اور ڈرون کارروائیوں کے کم از کم 15 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کابل سمیت کنڑ، خوست، ننگرہار، پکتیا، پکتیکا اور قندھار کے علاقے شامل رہے۔ امو ٹی وی نے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ان کارروائیوں سے 364 شہریوں کی ہلاکت اور 346 کے زخمی ہونے کی رپورٹ دی ہے۔ یہ مجموعی اعداد 24 ستمبر کے تازہ حملے کے نہیں بلکہ اکتوبر 2025 سے ستمبر 2026 تک کی مبینہ کارروائیوں سے متعلق ہیں۔

افغانستان میں تازہ واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں سرحد پار سے ہونے والے دہشتگرد حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستانی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی رہی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر مسلح گروہوں کو پناہ دینے کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں، تاہم ان دعوؤں پر دونوں جانب سے اختلاف موجود ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C