07/July/2026

افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں، 'غضبِ حق' جاری رہیگا، کور کمانڈرز کانفرنس

👁️ 86 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں، 'غضبِ حق' جاری رہیگا، کور کمانڈرز کانفرنس

افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں، 'غضبِ حق' جاری رہیگا، کور کمانڈرز کانفرنس

راولپنڈی (ڈیلی اردو) پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیر کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔

 

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے زیرِ صدارت اجلاس میں شرکا نے افغان طالبان حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں کو مبینہ طور پر انڈین سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، جن میں فتنہ الخوارج (کالعدم تحریک طالبان پاکستان) اور فتنہ الہندوستان (کالعدم بلوچ لبریشن آرمی) شامل ہیں، کی جانب سے پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق شرکا نے مؤقف اختیار کیا کہ خطے میں دیرپا امن و استحکام اس بات سے مشروط ہے کہ افغان سرزمین کو ایسے عناصر کے استعمال سے روکا جائے، جس کی ذمہ داری افغان طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف دفاع کا غیر مبہم حق حاصل ہے، اور پاکستانی فوج افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف آپریشن ’غضبِ حق‘ کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے گی۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں شورش زدہ علاقوں میں مؤثر حکمرانی کے ڈھانچوں کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا، جن کا مقصد عوامی خدمت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور مبینہ طور پر سرگرم دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہے۔

 

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق فورم نے کہا کہ ’معرکۂ حق‘ میں کامیابی کے بعد اب بیرونی حمایت یافتہ ہائبرڈ جنگ اور منظم پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس نے ایسی تمام سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

 

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور فورم نے پاکستانی فوج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقائی صورتحال کے جائزے کے دوران فورم نے پاکستان کے اس کردار کو سراہا جو وہ مکالمے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے ادا کر رہا ہے۔ فورم نے پرامن حل، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور علاقائی تعاون کے فروغ کے عزم کو دہرایا۔

 

’انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے فورم نے 24 اپریل 2025 کی قومی سلامتی کمیٹی کی ہدایات کی توثیق کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔‘

 

آئی ایس پی کے مطابق فورم نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور یکطرفہ آبادیاتی تبدیلیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی 'شہ رگ' ہے۔ 

 

اجلاس میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن مسئلۂ کشمیر کے حل سے مشروط ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ہے۔

 

آئی ایس پی کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت کے مطابق ملٹی ڈومین ٹرانسفارمیشن پلان پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔ 

 

انھوں نے اعلیٰ ترین سطح کی چوکسی، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام خطرات کا مربوط اور مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C