07/July/2026

بھارت میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر فرد جرم عائد

👁️ 62 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر فرد جرم عائد

بھارت میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر فرد جرم عائد

نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) بھارت کی انسداد دہشت گردی کی ایجنسی نے کہا ہے کہ اس نے جماعت الدعوہ کے بانی اور کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے رہنما حافظ سعید کے خلاف پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔

 

یہ دہشت گردانہ حملہ گزشتہ سال بھارت کے زیر انتظام کشمیر  کے سیاحتی مقام پہلگام میں کیا گیا تھا اور اس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

اس واقعے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا اور سرحد پار دو طرفہ حملے بھی کیے گئے۔ نئی دہلی کا موقف ہے کہ حملہ آور پاکستان سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں اسلام آباد کی حمایت حاصل تھی تاہم پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

 

بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے دسمبر میں اس کیس میں لشکر طیبہ، اس کے ذیلی گروپ ''دی ریزسٹنس فرنٹ‘‘ اور چھ افراد کے خلاف بھی چارج شیٹ دائر کی تھی۔

 

حکام کے مطابق ''دی ریزسٹنس فرنٹ‘‘ نے ابتدا میں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم بعد میں اس سے انکار کر دیا تھا۔

 

این آئی اے نے کہا ہے کہ حافظ سعید پر انفرادی حیثیت میں اور دونوں تنظیموں کے سربراہ کے طور پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں مبینہ سازش اور معاونت سے متعلق شواہد شامل ہیں۔

 

قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق چارج شیٹ میں حافظ سعید پر انڈیا کے خلاف جنگ شروع کرنے اور سرحد پار سے سازش تیار کرنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

 

این آئی اے کا کہنا ہے کہ 1597 صفحات پر مشتمل اصل چارج شیٹ کے تسلسل میں جمع کرائی گئی اس ضمنی چارج شیٹ میں پاکستان کی مبینہ سازش، حافظ سعید کے مبینہ کردار اور کیس میں جمع کیے گئے شواہد کی تفصیلات شامل ہیں، جو ایجنسی کے مطابق سائنسی تحقیقات اور زمینی تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے۔

 

حافظ سعید پر 2008ء کے ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے، جن میں 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ وہ 2020 سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں پاکستان کی ایک جیل میں قید ہیں۔

 

پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ نے اس معاملے پر کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک صنوبر انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور سلامتی امور کے ماہر ڈاکٹر قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کا یہ اقدام صرف اندرونی سیاسی اور بیرونی سفارتی مقاصد کے تابع ہو کر اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔

 

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، '' ایک ایسا شخص جو پہلے سے ہی پابند سلاسل ہے، اس پر فرد جرم عائد کر کے مودی حکومت اپنے چند وقتی مفادات کی تسکین تو کر سکتی ہے لیکن اس قدم کے پاکستان کے لیے عالمی سطح پر کسی بھی قسم کے قانونی یا سفارتی مضمرات نہیں ہو سکتے۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا کہ جب پاکستان نے پہلگام حملے میں اسلام آباد کے ملوث ہونے سے متعلق بھارتی الزامات کے ثبوت مانگے تھے، تو پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ نئی دہلی کسی بھی قسم کا کوئی ثبوت مہیا نہیں کر سکا تھا۔

 

ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق، ''شاید اسی لیے اب پاکستان نے اس طرح کے بھارتی اقدامات پر سرکاری رد عمل ظاہر کرنا بھی بند کر دیا ہےکہ یہ تو شاید اب پڑوسیوں کا وطیرہ ہی بن چکا ہے کہ ان کے ہاں جو کچھ بھی ہو، اس کا الزام پاکستان یا کسی پاکستانی شہری پر لگا دیا جائے۔‘‘

 

واضح رہے کہ حافظ محمد سعید کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے سنہ دو ہزار بیس میں گرفتار کیا تھا۔ جو اِس وقت مختلف مقدمات کے تحت سنائی جانے والی سزا کے باعث قید میں ہیں۔

حافظ محمد سعید کو بھارت اور امریکہ دہشتگرد قرار دے چکے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C