افغان طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تقریباﹰ 3 ہزار ارکان کو برطرف کردیا
👁️ 39 بار دیکھا گیا
افغان طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تقریباﹰ 3 ہزار ارکان کو برطرف کردیا
کابل (ڈیلی اردو/اے ایف پی) افغانستان میں حکمران طالبان تحریک نے کہا ہے کہ اس نے اپنے تقریباﹰ تین ہزار ارکان کو ناجائز اور استحصالی اقدامات کے باعث سزا کے طور پر اپنی صفوں سے نکال دیا ہے۔ یہ بات ملکی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتائی۔
ایک سرکردہ حکومتی اہلکار کے مطابق ایسا طالبان کے گزشتہ برس موسم گرما میں اقتدار میں آنے کے بعد شروع کیے گئے جواب دہی کے ملک گیر عمل کے دوران کیا گیا۔ کابل میں افغان وزارت دفاع کے ایک پینل کے سربراہ لطیف اللہ حکیمی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مجموعی طور پر 2840 ارکان کو طالبان تحریک افغانستان سے نکالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد افغانستان میں اسلامی حکومت کا نام بدنام کر رہے تھے اور طالبان کی اپنی صفوں میں صفائی کے اس عمل کا مقصد مستقبل میں بہتر فوج اور مؤثر پولیس کی تشکیل ہے۔
عوام سے ماضی کے مقابلے میں نرمی کا وعدہ
طالبان نے ہندوکش کی اس ریاست سے امریکا اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجی دستوں کے حتمی انخلا کے بعد اور مجموعی طور پر اپنی 20 سالہ مسلح جدوجہد کے بعد ایک بار پھر اقتدار سنبھالا تھا۔ اس موقع پر گزشتہ برس اگست میں ملک میں نئی طالبان انتظامیہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے 1996ء سے لے کر 2001ء تک جاری رہنے والے پہلے دور اقتدار کے مقابلے میں اپنے طرز حکومت میں نرمی لائے گی۔
تقریباﹰ اسی وقت طالبان کی حکومت نے ایک ایسا کمیشن بھی قائم کر دیا تھا، جس کا کام اس تحریک کے ایسے ارکان کی نشاندہی تھا، جو اس موومنٹ کے طے کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں۔
منشیات کے کاروبار اور کرپشن میں ملوث
لطیف اللہ حکیمی کے مطابق اب تک اس تحریک سے سزا کے طور پر جن ہزاروں افراد کو نکالا جا چکا ہے، ان کے خلاف استحصالی رویوں، بدعنوانی میں ملوث ہونے، منشیات کے کاروبار کا حصہ ہونے اور عام شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت جیسے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔
حکیمی کے مطابق، ”ان میں سے کچھ کے تو اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے ساتھ روابط بھی تھے۔‘‘ طالبان تحریک کے ان تین ہزار کے قریب ارکان کو زیادہ تر افغانستان کے 14 مختلف صوبوں میں تحریک کی صفوں سے خارج کیا گیا۔
حکیمی کے الفاظ میں، ”تحریک کی اپنی صفوں میں صفائی کا یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا اور اس صفائی کا دائرہ دیگر افغان صوبوں تک بھی پھیلا دیا جائے گا۔‘‘
انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کا الزام ہے کہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان کے کئی جنگجو افغانستان کے سابق سکیورٹی اہلکاروں کے ماورائے عدالت قتل کے مرتکب بھی ہوئے ہیں، حالانکہ طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخوند زادہ نے کابل پر پچھلے سال قبضے کے بعد ہر کسی کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام: گرفتار کیے گئے 9 سابق فوجی پائلٹوں نے غوطہ، حلب، دیر الزور اور حماہ میں فضائی حملوں میں حصہ لیا
11/September/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
یمن : حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا اور میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی
11/September/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
سری لنکا: گھر پر دستی بم حملہ، دو کمسن بھائی ہلاک، والد سمیت تین زخمی
11/September/2026 👁️ 46 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان: دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک
11/September/2026 👁️ 57 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان: گرلز سکولوں کو دھمکیوں سے ہزاروں طالبات کی تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ
11/September/2026 👁️ 56 بار دیکھا گیا
کرم میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی، افغان شہری سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
11/September/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26285 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15532 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11819 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9118 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7410 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5137 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C