11/September/2026

یمن : حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا اور میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن : حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا اور میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی

یمن : حوثیوں کی بڑی پیش قدمی، المخا اور میون جزیرے پر قبضہ، باب المندب میں کشیدگی بڑھ گئی

صنعاء (ڈیلی اردو) یمن میں حوثی باغیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان لڑائی نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران خطرناک رخ اختیار کرلیا ہے۔ حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی محاذ پر تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے اہم بندرگاہی شہر المخا پر قبضہ کیا، جبکہ بعد ازاں باب المندب کے انتہائی اہم میون (پریم) جزیرے تک بھی پہنچ گئے۔ ذباب میں بھی حوثیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے باب المندب کے قریب حکومتی فورسز پر دباؤ مزید بڑھ گیا۔

المخا پر حوثیوں کا قبضہ

10 ستمبر کو حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم بندرگاہی شہر المخا (موچا) پر قبضہ کرلیا۔ یہ شہر باب المندب کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے انتہائی اہم تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ گارڈین کے مطابق حکومتی فورسز نے المخا کے اطراف سے پسپائی اختیار کی، جبکہ حکومتی فوج کے کمانڈر طارق صالح نے اسے دوبارہ منظم ہونے کے لیے ایک تزویراتی پسپائی قرار دیا۔

میون جزیرے پر کنٹرول

11 ستمبر کو حوثیوں نے میون یا پریم جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا۔ جزیرہ باب المندب کی گزرگاہ کے اندر واقع ہے اور بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے اہم بحری راستے کے قریب ہونے کے باعث غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق یمنی حکومت کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار اور حوثی حکام دونوں نے کی ہے۔

ذباب کی جانب پیش قدمی

رائٹرز کے مطابق حوثی باغی ذباب کے علاقے تک بھی پہنچ گئے، جو باب المندب کے قریب واقع ہے۔ ذباب اور میون جزیرے پر حوثیوں کی موجودگی انہیں آبنائے باب المندب کے قریب ایک اہم فوجی پوزیشن فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس مرحلے پر پورے باب المندب پر حوثیوں کا مکمل کنٹرول قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ علاقے میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور حکومتی و اتحادی فورسز کی جوابی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

حکومتی فورسز کی صورتحال

یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کو مغربی ساحل پر حالیہ لڑائی میں اہم نقصانات اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم حکومتی فورسز نے مکمل طور پر محاذ نہیں چھوڑا اور المخا سمیت کھوئے ہوئے علاقوں کو واپس لینے کے لیے دوبارہ صف بندی شروع کردی ہے۔ سعودی عرب، جو یمنی حکومت کا اہم فوجی حامی ہے، نے بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

سعودی عرب کی جوابی کارروائی

حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد سعودی عرب نے المخا کے ہوائی اڈے سمیت حوثیوں کے زیر قبضہ بعض مقامات پر فضائی حملے کیے۔ اے پی کے مطابق سعودی فضائی کارروائی میں المخا کے قریب ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں 73 افراد کے زخمی ہونے کی سعودی حکام نے اطلاع دی ہے۔

حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے

حوثی باغی پہلے ہی یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت ملک کے وسیع شمالی اور مغربی علاقوں پر قابض ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں انہوں نے مغربی ساحل کی جانب اپنی پیش قدمی تیز کی۔ 10 ستمبر کو المخا، جبکہ 11 ستمبر کو میون جزیرہ اور ذباب کی جانب پیش قدمی نے ان کے زیر اثر علاقے کو بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب مزید وسعت دی ہے۔ تاہم عدن اور جنوبی و مشرقی یمن کے بیشتر علاقے اب بھی حکومت یا حکومت نواز قوتوں کے زیر اثر ہیں۔

حیس اور دیگر محاذ

المخا پر قبضے سے قبل حوثیوں نے تعز کے مغربی علاقوں میں بھی دباؤ بڑھایا تھا۔ گارڈین کے مطابق حوثیوں نے حیس اور خالد بن ولید فوجی اڈے پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان علاقوں کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہونے کے باعث بعض مقامات پر مکمل اور مستقل کنٹرول کے دعوے کی آزادانہ تصدیق محدود ہے۔

حالیہ لڑائی میں ہلاکتیں

تازہ لڑائی میں جانی نقصان کے اعداد مختلف ذرائع سے مختلف سامنے آرہے ہیں۔ گارڈین نے تنازع پر نظر رکھنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کے حوالے سے بتایا کہ پانچ روزہ لڑائی کے دوران کم از کم 276 افراد ہلاک ہوئے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق حالیہ بڑے محاذوں پر مجموعی ہلاکتیں 500 سے تجاوز کرچکی ہیں۔

کشیدگی کے دوبارہ آغاز سے مجموعی نقصان

موجودہ مرحلے کی لڑائی اگست کے آخر اور ستمبر کے آغاز میں دوبارہ شدت اختیار کرگئی تھی۔ اے پی کے مطابق 23 اگست سے 5 ستمبر کے درمیان ہی یمن میں 194 افراد ہلاک، 880 سے زائد زخمی اور 21 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ بعد کے دنوں میں لڑائی میں مزید شدت آنے کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔ گارڈین نے موجودہ نئی کشیدگی کے مجموعی جانی نقصان کو 500 سے زائد جبکہ وسیع تر صورتحال کے حوالے سے ایک ہزار سے زیادہ جانی نقصانات کی اطلاعات کا ذکر کیا ہے؛ تاہم مختلف ذرائع میں ہلاک اور زخمی افراد کی گنتی الگ الگ ہونے کے باعث ان اعداد کو ایک حتمی ہلاکتوں کی تعداد نہیں سمجھا جاسکتا۔

باب المندب پر بڑھتا ہوا خطرہ

حالیہ پیش قدمی کا سب سے اہم پہلو باب المندب ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ میون جزیرے اور ذباب کے قریب حوثیوں کی موجودگی سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی تجارت کا تقریباً 10 سے 12 فیصد اس وسیع بحری راستے سے وابستہ ہے، اس لیے یہاں طویل عرصے تک عدم استحکام پیدا ہونے کی صورت میں تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی چین پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

جنگ کا اگلا مرحلہ

یمن میں موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ 2022 میں قائم ہونے والی نسبتاً طویل جنگ بندی کے بعد ملک ایک بار پھر بڑے پیمانے کی لڑائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حوثیوں کی مغربی ساحل پر تیز پیش قدمی نے حکومت اور اس کے اتحادیوں کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا ہے، جبکہ سعودی عرب کی فضائی کارروائیاں اس تنازع کو مزید علاقائی رنگ دے رہی ہیں۔

فی الحال المخا اور میون جزیرے پر حوثیوں کا قبضہ تصدیق شدہ ہے، جبکہ ذباب تک ان کی رسائی کی بھی رائٹرز نے یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹنگ کی ہے۔ تاہم پورے باب المندب یا یمن کے تمام مغربی ساحلی علاقوں پر مکمل حوثی کنٹرول کا دعویٰ کرنا ابھی درست نہیں ہوگا۔ لڑائی جاری ہے اور حکومتی فورسز کی ممکنہ جوابی کارروائی کے باعث زمینی صورتحال دوبارہ تبدیل ہوسکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C