افغان فورسز تنہا ہی سکیورٹی سنبھال سکتی ہیں، نیٹو سربراہ
👁️ 52 بار دیکھا گیا
افغان فورسز تنہا ہی سکیورٹی سنبھال سکتی ہیں، نیٹو سربراہ
برسلز + کابل (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے/اے پی) آئندہ گیارہ ستمبر تک امریکی افواج کے مکمل انخلاء اور نیٹو فورسز کی واپسی کے مد نظر یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جنگ زدہ افغانستان میں صورت حال ایک بار پھرخراب ہو سکتی ہے۔
نیٹو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی فورسزاب اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں وہ تنہا ہی سنبھال سکتی ہیں۔ اس دوران ایک جرمن ترقیاتی ایجنسی نے بین الاقوامی فورسز کی واپسی کے بعد بھی افغانستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
Great to be back in #Portugal to prepare for the #NATO Summit with @antoniocostapm. We condemn the state hijacking of a passenger plane by #Belarus, which put at risk a large number of citizens of Allied countries. We also addressed #Afghanistan & #Sahel. pic.twitter.com/02OhGEUsF0
— Jens Stoltenberg (@jensstoltenberg) May 26, 2021
مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ اسٹولٹن برگ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ نیٹو نے تقریباً دو عشروں تک افغانستان میں سکیورٹی فراہم کی ہے لیکن اب وہاں کی حکومت اور سکیورٹی فورسزاس قدر مضبوط ہوچکی ہے کہ وہ بین الاقوامی فورسز کی مدد کے بغیر ہی اپنے پاوں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔
اسٹولٹن برگ نے کہا”میں سمجھتا ہوں کہ اب افغان بھی یہ بات اچھی طرح محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے بیس برس کے دوران اپنا بہت کچھ جان و مال افغانستان میں لگایا ہے۔”
نیٹو کے چیف کا کہنا تھا”اگر سکیورٹی فورسز کی اہلیت کی بات ہو یا سماجی اور اقتصادی ترقی کی بات، افغانستان ان دونوں شعبوں میں بہت آگے نکل چکا ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا ”آخر کبھی نہ کبھی تو افغانوں کو اپنے ملک میں امن اور استحکام کی ذمہ داری خود اٹھانا ہی تھی۔”
سیکورٹی کے خدشات
حالانکہ ایسے میں جب کہ امریکا اور نیٹو افواج نے افغانستان سے واپسی کی تیاریاں شروع کردی ہیں ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گو کہ کابل، حکومت کے قبضے میں ہے لیکن ملک کے بیشتر قصبے اورشہر طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ ملک کے مشرقی صوبے لغمان میں رواں ہفتے اس برس کی شدید ترین جنگ ہوئی۔
اس صورت حال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نیٹو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک افغانستان کی وزارتوں کو صلاح و مشورے اور سکیورٹی فورسز کی مالی معاونت جاری رکھیں گے اس کے علاوہ کابل حکومت اور طالبان کے درمیان’سست رفتاری سے آگے بڑھنے والی‘ مذاکرات کی بھی حمایت کریں گے۔
نیٹو چیف کا مزید کہنا تھا ”ہم افغان سکیورٹی فورسز کو ملک کے باہر تربیت دینے کے امکان پر بھی غور کررہے ہیں لیکن اس سلسلے میں ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”
افغانستان سے بین الاقوامی فورسز کا انخلاء جاری ہے۔ اس وقت نو ہزار سے بھی کم غیرملکی فوجی افغانستان میں ہیں جن میں تقریباً ساڑھے تین ہزار معاون سویلین عملہ شامل ہے۔ ان سب کو گیارہ ستمبرتک افغانستان سے واپس چلے جانا ہے۔ ایسے میں بہت سے حکام اور تجزیہ کار یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جب امریکا افغانستان سے مکمل طورپر نکل جائے گا تو طالبان وہاں دوبارہ غالب آسکتے ہیں۔
امریکی اعلی فوجی عہدیدار بھی صدر جوبائیڈن کے حکم کی تعمیل کے حوالے سے سنجیدگی سے غور و فکر کر رہے ہیں۔ بائیڈن اور اسٹولٹن برگ 14جون کو برسلز میں مجوزہ نیٹو کی ایک سربراہی کانفرنس میں ملاقات کریں گے۔ اس میٹنگ میں افغانستان کا معاملہ اہم موضو عات میں شامل ہے۔
جب نیٹو کے سربراہ سے سکیورٹی کی ضمانت کے بغیر افغانستان سے انخلا کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا”افغانستان میں نیٹو کے ملٹری مشن کو ختم کرنے کے فیصلے سے خطرہ تو بہر حال موجود ہے۔ لیکن ہمیں نہایت شفاف اور کھلے آنکھ سے سب کچھ دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم وہاں موجود رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے بھی اپنے خطرات ہیں۔ زیادہ جنگ کا خطرہ ہے، وہاں افواج کی تعداد میں اضافہ کرنے کا خطرہ ہے اور مسلسل فوجی مشن کو برقرار رکھنے کا خطرہ ہے۔”
نیٹو نے افغانستان میں سن 2003 میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں اٹھائی تھیں جبکہ امریکہ نے اس سے دو سال قبل اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی کوشش میں طالبان کو حکومت سے معزول کر دیا تھا۔
جرمن ایجنسی خدمات جاری رکھے گی
دریں اثنا جرمن ترقیاتی ایجنسی ‘جرمن کوآپریشن فار انٹرنیشنل کوآپریشن‘ (جی آئی زیڈ) نے کہا ہے کہ بین الاقوامی فورسز کی واپسی کے بعد بھی وہ افغانستان میں اپنی تعمیراتی خدمات جاری رکھنا چاہتی ہے۔
جی آئی زیڈ کی ترجمان نے کہا ‘‘ مشکل حالات کے باوجود ہم کام کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے تقریباً ایک ہزار افراد جرمن حکومت کی ترقیاتی پروجیکٹوں کو نافذ کرنے کے لیے ان کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم ایسے علاقوں میں زیادہ سرگرم نہیں ہے جن پر طالبان کا کنٹرول ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر ایران کا میزائل حملہ
07/July/2026 👁️ 335 بار دیکھا گیا
بھارت میں کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید پر فرد جرم عائد
07/July/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
لبنان میں گاڑی پر اسرائیلی ڈرون حملہ، چار افراد ہلاک
07/July/2026 👁️ 279 بار دیکھا گیا
افغان سرزمین سے دہشت گردی برداشت نہیں، 'غضبِ حق' جاری رہیگا، کور کمانڈرز کانفرنس
07/July/2026 👁️ 152 بار دیکھا گیا
حماس نے 20 سال بعد غزہ کی حکومتی انتظامیہ تحلیل کر دی، امریکی منصوبے پر عملدرآمد شروع
07/July/2026 👁️ 221 بار دیکھا گیا
ایران: علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہ ہوئے
06/July/2026 👁️ 767 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8901 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4727 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3524 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2520 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2271 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1963 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C