19/September/2025

امریکہ بگرام ایئربیس واپس لینے جا رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

👁️ 345 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ بگرام ایئربیس واپس لینے جا رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ بگرام ایئربیس واپس لینے جا رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

لندن (ڈیلی اردو/اے پی/بی بی سی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ لندن کے قریب بکنگھم شائر میں اپنی سرکاری رہائش گاہ "چیکرز" میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “یہ ایک چھوٹی سی بریکنگ نیوز ہو سکتی ہے۔ ہم اپنا فوجی اڈہ واپس چاہتے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ چین کے جوہری ہتھیار بنانے کے مقام سے صرف ایک گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔”

 

ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران بگرام اڈہ نہ چھوڑنا سب سے بہتر فیصلہ ہوتا۔ ان کے مطابق تقریباً دو دہائیوں تک یہ اڈہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑائی کا مرکز رہا، جو 77 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور ایک وقت میں 10 ہزار سے زائد فوجیوں کو پناہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

 

انہوں نے یاد دلایا کہ سابق امریکی صدور جارج بش، براک اوباما اور خود انہوں نے اس اڈے کا دورہ کیا تھا جبکہ جو بائیڈن نے 2011 میں بطور نائب صدر بگرام ایئربیس کا دورہ کیا تھا۔

 

یہ فوجی اڈہ سب سے پہلے 1950 کی دہائی میں سوویت یونین نے پروان صوبے میں تعمیر کیا تھا اور 1980 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت قبضے کے دوران انتہائی اہم فوجی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ نے اس اڈے پر قبضہ کیا اور اسے افغانستان میں اپنی سب سے بڑی عسکری تنصیبات میں شامل کرلیا۔

 

مشرق وسطیٰ اور فلسطین کا مسئلہ

 

پریس کانفرنس کے دوران مشرق وسطیٰ پر بات کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ خطے میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ “ہمارا مقصد وہاں امداد پہنچانا، یرغمالیوں کو رہا کرانا اور بالآخر ایک ایسے جامع منصوبے کی طرف بڑھنا ہے جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے امن اور سلامتی لا سکے۔”

 

فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے اسٹارمر نے کہا کہ "غزہ کی صورتحال ناقابلِ برداشت ہے، ہمیں فوری طور پر امداد پہنچانے کی ضرورت ہے، اور امن کے منصوبے کے تناظر میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا سوال زیر غور آنا چاہیے۔" انہوں نے واضح کیا کہ یہ اس مجموعی پیکیج کا حصہ ہے جو ایک محفوظ اسرائیل اور ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کی طرف لے جا سکتا ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے اس مؤقف سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس نکتے پر میرا وزیراعظم سے اختلاف ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے دنیا کی تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک تھے، اس لیے اسرائیل کی جنگ جاری رکھنے کی حمایت کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے فلسطینیوں کی مشکلات پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

 

روس اور یوکرین جنگ

 

روس اور یوکرین کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسٹارمر نے صدر پیوٹن کو "مایوس کن" قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے یوکرین میں سب سے بڑا حملہ کیا، نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بے شمار معصوم شہریوں کو قتل کیا۔ “یہ کسی ایسے شخص کے اقدامات نہیں ہیں جو امن چاہتا ہو۔”

 

صدر ٹرمپ نے بھی پیوٹن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ "اس نے مجھے واقعی مایوس کیا ہے۔" ان کے بقول امریکہ نے سات جنگوں کو ختم کیا لیکن یوکرین جنگ جو انہیں سب سے آسان لگتی تھی، وہ پیوٹن کے رویے کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

 

نیٹو پر بات

 

امریکی صدر نے نیٹو کو ہتھیار فراہم کرنے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "ہم نیٹو کو بہت سے ہتھیار بھیج رہے ہیں اور وہ ان کی پوری قیمت ادا کر رہے ہیں۔" انہوں نے اتحاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کے دفاعی اخراجات کا ہدف دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دینا ایک بڑی کامیابی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C