امریکی حملے کی صورت میں عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، ایران کا انتباہ
👁️ 54 بار دیکھا گیا
امریکی حملے کی صورت میں عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، ایران کا انتباہ
تہران (ڈیلی اردو ) ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں اور اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق محدود نوعیت کا حملہ بھی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکا اس وقت نئی فوجی مہم شروع کرکے پہلے جیسی کامیابیاں حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم واشنگٹن سیاسی وجوہات، بالخصوص آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں، کوئی محدود کارروائی کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، امریکی فوجی طویل فوجی کارروائیوں کے باعث تھکن کا شکار ہیں اور بعض دستے ایران سے دور منتقل ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی بحری جہاز بھی خلیجِ فارس سے 700 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہیں۔ ان فوجی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ تہران کسی بھی ممکنہ حملے کو نظرانداز نہیں کر رہا اور ایرانی افواج جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا نے نئی کارروائی کی تو اس مرتبہ ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائی عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی، تیل کی ترسیل متاثر
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی 19 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے قریب بحری جہازوں کو لاحق خطرات نے تیل کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلیجی خطے سے خام تیل کی ترسیل روزانہ 20 ملین بیرل سے زیادہ کی سطح سے کم ہوکر تقریباً 8.5 ملین بیرل رہ گئی، جس سے عالمی رسد پر دباؤ بڑھا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت گزشتہ ہفتے پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچنے کے بعد پیر کو کم ہوکر 108.41 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ قیمت میں کمی کے باوجود خطے میں فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم خطرات بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحرِ ہند سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے۔ اس سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے پر طویل بندش یا جہاز رانی میں شدید رکاوٹ کی صورت میں تیل کی قیمتیں، نقل و حمل کے اخراجات اور کئی ممالک کی معیشتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
رائٹرز نے 14 اکتوبر کی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات اور ایرانی بحری حکمتِ عملی میں تبدیلیوں نے بحری سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی بحری کارروائیوں اور ایران کی جانب سے بحری راستوں پر پابندیوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے قبل رائٹرز نے یکم اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ایران ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں زیادہ سخت فوجی ردعمل کی تیاری کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ نئی کارروائی کی صورت میں جوابی حملوں کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ تاہم فوجی صلاحیتوں، ممکنہ اہداف اور کسی نئی کارروائی کے نتائج سے متعلق فریقین کے دعوؤں کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔
دوسری جانب ایران کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع نے بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں سخت جوابی کارروائی کی دھمکیاں دی ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق ملک کے توانائی مراکز پر حملہ ہوا تو اس کے اثرات خطے میں اہم تنصیبات اور مفادات تک پھیل سکتے ہیں۔
توانائی بحران کے خدشات اور سفارت کاری کی اہمیت
ماہرین کے نزدیک مشرقِ وسطیٰ میں کسی نئے بڑے فوجی تصادم سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک عالمی تیل کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی طویل عرصے تک متاثر رہی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے اخراجات بڑھنے کا خطرہ ہوگا۔
تاہم عالمی سطح پر توانائی کے بحران کی شدت کا انحصار ممکنہ حملے کے دائرے، اس کے دورانیے، بحری راستوں کی صورتِ حال اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جانب سے متبادل رسد پر بھی ہوگا۔ اس لیے ایرانی ترجمان کا انتباہ ایک ممکنہ خطرے سے متعلق بیان ہے، نہ کہ عالمی توانائی بحران کے یقینی طور پر واقع ہونے کی تصدیق۔
خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر سفارتی رابطوں، بحری راستوں کے تحفظ اور فوجی تصادم سے گریز کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ کسی نئی امریکی کارروائی یا ایرانی جوابی حملے کی صورت میں صورتِ حال تیزی سے بدل سکتی ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے آگے عالمی معیشت تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان: چاغی میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی
19/October/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: سرینگر گرینیڈ حملہ کیس میں پلوامہ کے دو نوجوان بری، تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی
19/October/2026 👁️ 36 بار دیکھا گیا
امریکی حملے کی صورت میں عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، ایران کا انتباہ
19/October/2026 👁️ 54 بار دیکھا گیا
یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں درجنوں ہلاکتیں، باب المندب اور تعز میں شدید جھڑپیں
19/October/2026 👁️ 38 بار دیکھا گیا
حرمین شریفین کا تحفظ ناقابلِ سمجھوتہ، سعودی عرب کی دفاع کے لیے ہر ضروری مدد کریں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
19/October/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
پشاور کے نواحی علاقے متنی میں مشترکہ آپریشن، ٹی ٹی پی کمانڈر سمیت 6 دہشت گرد ہلاک
19/October/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26386 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15623 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11917 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9271 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7528 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5482 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C