19/October/2026

یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں درجنوں ہلاکتیں، باب المندب اور تعز میں شدید جھڑپیں

👁️ 34 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں درجنوں ہلاکتیں، باب المندب اور تعز میں شدید جھڑپیں

یمن میں حوثی باغیوں کے میزائل حملے میں درجنوں ہلاکتیں، باب المندب اور تعز میں شدید جھڑپیں

صنعاء (ڈیلی اردو ) یمن میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں جنوبی صوبے شبوا میں سرکاری فورسز کے العَلم فوجی کیمپ پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ باب المندب کے قریب اور تعز شہر کے مغربی محاذ پر بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

عرب میڈیا ادارے اسکائی نیوز عربیہ نے یمنی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کے روز شبوا میں فوجی کیمپ پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ ابتدائی اطلاعات میں 15 افراد کی ہلاکت اور 30 سے زائد کے زخمی ہونے کا بتایا گیا تھا، تاہم بعد میں جانی نقصان میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز نے یمنی حکومت کے چار سرکاری اور طبی ذرائع کے حوالے سے اسی حملے میں کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ابتدائی رپورٹ میں کم از کم 20 فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا۔ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والے اعدادوشمار میں فرق کے باعث ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق العَلم کیمپ شبوا میں سرکاری فورسز کا تربیتی مرکز ہے۔ حملے میں بیلسٹک میزائل استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب یمن کے مختلف علاقوں میں حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی دوبارہ تیز ہو رہی ہے۔

باب المندب کے محاذ پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یمنی ذرائع کے مطابق پیر کی صبح جنوبی العمالقہ فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اطلاعات میں بتایا گیا کہ العمالقہ فورسز نے تپہ الخزان کی جانب پیش قدمی کی، جس کے بعد حوثی باغیوں نے مارٹر گولے فائر کیے اور لڑائی کے دوران بغیر پائلٹ طیارے بھی استعمال کیے۔

یمنی ذرائع کے مطابق العمالقہ فورسز نے اتوار کو بھی باب المندب کے علاقے میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا، جس کا مقصد ان مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا بتایا گیا۔ تاہم مختلف مقامات پر کنٹرول کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

ادھر تعز شہر کے مغربی حصے میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق جبل ہان اور پرانے ہوائی اڈے کے قریب بریگیڈ 35 کے اطراف حوثی باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ لڑائی شہر کے پرانے ہوائی اڈے کے علاقے میں حوثی باغیوں کے حملے کے بعد شدت اختیار کر گئی۔

ساحلی علاقوں پر کنٹرول کی جنگ

یمنی ذرائع کے مطابق ستمبر کے دوران مغربی ساحلی پٹی پر لڑائی میں اہم تبدیلیاں آئیں اور حوثی باغیوں نے المخا سمیت بعض ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب مقامات پر پیش قدمی کی۔ اس کے بعد اکتوبر میں یمنی حکومتی فورسز اور العمالقہ بریگیڈز نے ذباب کے علاقے اور بعض اہم مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور حوثی باغیوں کی رسد کے راستے متاثر کرنے کا دعویٰ کیا۔

ان پیش رفتوں کے باوجود مغربی ساحل اور باب المندب کے اطراف صورتِ حال غیر یقینی ہے۔ مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی، متغیر محاذوں اور متضاد دعووں کے باعث زمینی کنٹرول کی مکمل تصویر واضح نہیں ہو سکی۔

رائٹرز کی رپورٹ: باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی سے عالمی تجارت کو خطرات

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ستمبر میں رپورٹ کیا تھا کہ حوثی باغیوں کی المخا اور بحیرۂ احمر کے بعض ساحلی علاقوں میں پیش قدمی نے باب المندب کے قریب بحری سلامتی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ رپورٹ میں یمنی حکومتی ذرائع کے حوالے سے حوثی باغیوں کی جزائرِ حنیش اور آبنائے کے اطراف پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔

باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس راستے سے نہرِ سویز کی جانب آنے اور وہاں سے جانے والے تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔ اس لیے یہاں فوجی تصادم میں اضافہ صرف یمن کے اندرونی تنازع تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی بحری تجارت، توانائی کی ترسیل اور جہاز رانی کے اخراجات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

یمن میں حالیہ لڑائی ایک ایسے مرحلے پر شدت اختیار کر رہی ہے جب حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بحیرۂ احمر اور خلیج کے خطے میں وسیع تر تنازعات نے بھی یمن کے محاذوں پر سلامتی کی صورتِ حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شبوا میں فوجی کیمپ پر حملے، تعز میں جھڑپوں اور باب المندب کے قریب فوجی سرگرمیوں کے بعد خدشہ ہے کہ یمن کی لڑائی مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ تاہم ہلاکتوں کی حتمی تعداد، مختلف محاذوں پر کنٹرول اور آئندہ فوجی کارروائیوں سے متعلق صورتِ حال کی تصدیق کے لیے مزید مستند اطلاعات درکار ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C