19/October/2026

بھارت کے زیر انتظام کشمیر: سرینگر گرینیڈ حملہ کیس میں پلوامہ کے دو نوجوان بری، تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی

👁️ 40 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: سرینگر گرینیڈ حملہ کیس میں پلوامہ کے دو نوجوان بری، تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر: سرینگر گرینیڈ حملہ کیس میں پلوامہ کے دو نوجوان بری، تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی

سرینگر (ڈیلی اردو ) بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے سرینگر کے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ علاقے میں اگست 2021 میں ہونے والے گرینیڈ حملے کے مقدمے میں پلوامہ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں کو بری کر دیا ہے۔ عدالت کے مطابق استغاثہ دونوں ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

بھارتی میڈیا ادارے ای ٹی وی بھارت اردو کی 19 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق بری کیے گئے نوجوانوں کی شناخت عادل فاروق بٹ اور عمران نذیر نجار کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کا تعلق پلوامہ ضلع کے علاقے پانپور کے کھریو سے بتایا گیا ہے۔ ان کے خلاف تعزیراتِ ہند، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق خصوصی جج منجیت رائے نے دونوں ملزمان کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 307، یو اے پی اے کی دفعات 13، 16، 18 اور 38، جبکہ آرمز ایکٹ کی دفعات 7 اور 27 کے تحت عائد الزامات سے بری کر دیا۔

عدالت نے مقدمے کی تفتیش اور استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی۔ عدالتی مشاہدات کے مطابق مقدمے میں پیش کی گئی اشیا کو قابلِ قبول شواہد کے ذریعے دستی بم یا ممنوعہ گولہ بارود ثابت نہیں کیا جا سکا۔ اسی طرح ملزمان کے قبضے سے مبینہ طور پر گولہ بارود برآمد ہونے کے دعوے کی تائید میں بھی مطلوبہ ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

عدالت نے کال ڈیٹیل ریکارڈز (سی ڈی آرز) سے متعلق خامیوں اور ملزمان کے مبینہ کردار کو ثابت کرنے کے لیے ضروری شواہد کی عدم موجودگی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ رپورٹ کے مطابق مقدمے میں منظوری کے عمل سے متعلق قانونی تقاضوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جن میں منظوری سے قبل مقدمے کی فائل کا آزادانہ جائزہ لینے والی اتھارٹی کے سامنے پیش نہ کیا جانا شامل تھا۔

پولیس کے مؤقف کے مطابق ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے یوسف بلوچ نامی پاکستانی شہری اور مبینہ جیشِ محمد آپریٹو کی ہدایات پر کارروائی کی تھی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ان الزامات کو مطلوبہ قانونی معیار کے مطابق ثابت نہیں کر سکا۔

عدالت کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی مقدمے میں الزامات کی سنگینی بذاتِ خود سزا دینے کے لیے کافی نہیں ہوتی، بلکہ جرم ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد اور قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد ضروری ہیں۔ دونوں نوجوانوں کی بریت کا فیصلہ اسی قانونی اصول کے تحت سامنے آیا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C